انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 414

۴۱۴ میں بھی دوسری اقوام میں بانٹا نہیں جائے گا- مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ خوش آئند مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے قوموں کے سمجھوتے کی کوشش کریں اور اگر سکھوں کو خوش کرنے کے لئے کسی قدر اور قربانی کرنی پڑے تو پرواہ نہ کریں- میرا خیال ہے کہ اگر کسی طرح بھی صلح سے کام نہ نکلے تو پنجاب کے مسلمانوں کو باون فیصدی حق تمام دوسری اقوام کی مشترکہ طاقت کے مقابل پر قبول کر لینا چاہئے- کیونکہ انشاء اللہ آئندہ مردم شماری میں ستاون فیصدی تک مسلمانوں کی آبادی ہونے کی امید ہے جسے ملا کر فوراً ہی ساڑھے تریپن فیصدی حق مسلمانوں کو مل جائے گا- جسے ان کی بڑھتی ہوئی نسل انشاء اللہ ہر مردم شماری میں مضبوط کرتی چلی جائے گی- فرنچائز اور عورتوں کی نمائندگی اب میں فرنچائز (FRANCHISE)کے سوال کو لیتا ہوں لیکن چونکہ اس سوال کے صرف اس پہلو کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جو عورتوں کے ووٹ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے میں نے اسی کے ساتھ عورتوں کی نمائندگی کو بھی شامل کر دیا ہے- مجھے اس سوال کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کمیشن نے اس سوال کا فیصلہ کرتے وقت بہت بے احتیاطی سے کام لیا ہے اور اس مضمون کو چھیڑ دیا ہے جسے چھیڑنا اس کے منصب سے باہر تھا یعنی مسلمانوں کے مذہب پر حملہ کیا ہے- سرجان سائمن JOHNSIMON(۔SIR )اور ان کے ساتھی اس امر سے ناواقف نہیں ہو سکتے کہ پردہ اسلام کا ایک حکم ہے اور اس کے خلاف کچھ لکھنا براہ راست اسلام پر حملہ کرنا ہے- میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہر شخص اپنی رائے کے متعلق آزاد ہے- اس بارہ میں اسلام سے زیادہ کوئی مذہب حریت نہیں سکھاتا اور اگر سر جان سائمن کوئی مذہبی کتاب لکھ رہے ہوتے تو میں ان کے خیالات کا دلچسپی سے مطالعہ کرتا اور ان کے دلائل کے حسن و قبح کو پرکھتا لیکن سر جان سائمن ایک سرکاری کمیشن کی رپورٹ لکھ رہے تھے اور اس وجہ سے انہیں مذہبی مسائل سے علیحدہ رہنا چاہئے تھا- وہ بار بار پردہ کو بہت سے مصائب کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں- مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں-: (‘’مردوں اور عورتوں کی تعداد میں) فرق سب سے نمایاں دس سے بیس سال کی عمر کے افراد میں ہے اور تمدنی رسوم اور عادات جیسے کہ پردہ اور بچپن کی شادی ہیں اور نادان دائیوں کی حرکات کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے- کیونکہ ان امور