انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 413

۴۱۳ پنجاب میں ساڑھے پچپن کی بجائے چون اور بنگال میں ساڑھے چون کی بجائے پچاس کی تجویز پیش کی ہے- سو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میں اب بھی اسی تجویز کی تائید میں ہوں لیکن علاوہ ہندوستانی اقوام کے ہمیں انگریزوں کے مخصوص مفاد کا بھی خیال رکھنا پڑے گا جن کی آبادی بہت کم ہے لیکن تجارت اور صنعت بہت وسیع ہے- پس اگر انہیں کوئی حق دیا گیا تو لازماً دوسری اقوام کے حق میں سے دیا جائے گا اور یہ معقول بات نہیں ہو سکتی کہ ہم انگریزوں کے اس حق کو تو تسلیم کریں لیکن ساتھ ہی اپنی تعداد سے بحصہ رسدی انہیں نشستیں دینے کے لئے تیار نہ ہوں- پس ان حالات میں ہمیں دو اصل تسلیم کرنے پڑیں گے- ایک یہ کہ بنگال و پنجاب میں مسلمانوں کی حقیقی اکثریت قائم رہے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے حصہ کے مطابق بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ انگریزوں کو حق دے دیں تا کہ ان کے حقوق کی نمائندگی پوری طرح ہو سکے- مسلمانوں کو یہ امر بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ پنجاب اور بنگال دونوں جگہوں میں انگریزوں نے اکثر اوقات مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے اور آل انڈیا برٹش ایسوسی ایشن ( (ALL INDIA BRITISH ASSOCIATION))نے تو حال کے کلکتہ کے اجلاس میں کلی طور پر مسلمانوں کے مطالبات کی تائید کی ہے- پس ہمیں بھی ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے- اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ان کی طرف ہمارا دوستانہ طور پر بڑھنا ان کے دلوں پر اثر کئے بغیر نہیں رہے گا اور ہم آئند انہیں ایک خیر خواہ دوست پائیں گے- خصوصاً جب کہ ان کا زیادہ تر کام تجارت ہے اور اس وجہ سے ان کی رقابت ہندوؤں سے بہ نسبت مسلمانوں کے بہت زیادہ ہے- اور میں امید کرتا ہوں کہ پنجاب اور بنگال میں آپس میں سمجھوتہ کر کے ایک مستقل اکثریت کے ساتھ مسلمان اور انگریز نمائندے ان دونوں صوبوں کی ترقی کے لئے حکومت قائم کر سکیں گے اور اپنے منصفانہ رویہ سے دوسرے صوبوں کے لئے ایک نیک مثال قائم کر دیں گے- میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ تقسیم جو میں نے اوپر بتائی ہے یہ فرض کر کے ہے کہ پنجاب اور بنگال کی آبادی ۴ء۵۵ اور ۶ء۵۶ ہے- اگر اس سے زائد آبادی مسلمانوں کو حاصل ہوئی جیسا کہ امید ہے کہ آئندہ مردم شماری میں انشاء اللہ حاصل ہوگی تو جو زیادتی اس وقت یا آئندہ مردم شماریوں میں ہوگی یہ سب کی سب مسلمانوں کو ملے گی- اسے کسی صورت