انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 412

انوار العلوم جلد !! マて ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل بنگال کی نسبت میرے نزدیک بہتر طریق یہ ہو گا کہ چھ فیصدی انگریزوں اور اینگلو انڈینز (ANGLO INDIANS) کو نشستیں دے دی جائیں۔ خواہ تجارت پیشہ ہوں یا دوسرے جو چار فیصدی مسلمانوں سے اور دو فیصدی ہندوؤں سے لی جائیں اور اس طرح مسلمانوں کو ۵۰۶۶ حق دیا جائے اور دوسری اقوام کو ۴۹۶۴ حق دیا جائے۔ یونیورسٹی کی دو نشستیں مقرر کی جائیں جن میں سے ایک ہندو کو اور ایک مسلمان کو ملے۔ زمینداروں کی الگ نمائندگی کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر انہیں علیحدہ نمائندگی دی جائے تو اس اصل پر ہو کہ ہر قوم کے حق نیابت کے برابر اس کی قوم کے زمینداروں کو حق نیابت ملے کیونکہ اگر زمینداروں کو صرف زمینداری کے حقوق کی نیابت کا خیال ہے تو ان کی نیابت اس طرح ایک مسلمان زمیندار کر سکتا ہے جس طرح ایک ہندو۔ پس اگر ان کی غرض صرف زمیندارہ حقوق کی حفاظت ہے تو انہیں اس بات پر راضی ہو جانا چاہئے کہ دونوں قوموں کی نیابت کے تناسب کو قائم رکھنے کے لئے زمینداروں کے حلقوں کا انتخاب مخلوط لیکن معین نشتوں کے ساتھ ہو اور تعین نشتوں کا آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ہو ۔ اسی طرح اگر ہندوستانی تجارتی حلقوں کو حق دینا ضروری سمجھا جائے تو اسی اصول پر دیا جائے۔ یعنی نشستوں کا تعین مذہب کے مطابق ہو جائے تاکہ تجارتی اور زمینداری حلقوں کو قومی برتری کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔ آخر مسلمان تاجر بھی ہیں اور زمیندار بھی اور وہ اسی طرح ان مخصوص مفاد کی نگرانی کر سکتے ہیں جس طرح ہندو صاحبان ۔ تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر ان حلقوں کو قائم رکھا جائے تو یہ شرط نہ کر دی جائے کہ تعداد آبادی کے مطابق ان حلقوں کے نمائندے منتخب ہونے چاہئیں۔ میں اس تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ انتخاب کن اصول پر ہوں کیونکہ انتخاب کے مختلف ذرائع میں سے کئی ذرائع ہماری غرض کو پورا کر سکتے ہیں۔ جو بھی مناسب ہو اسے اختیار کیا جائے۔ اصل غرض صرف یہ ہے کہ انگریزوں کی نمائندگی کے بعد جس میں چار فیصدی کی قربانی مسلمانوں سے اور دو فیصدی کی قربانی ہندوؤں سے کرائی جائے باقی سب حلقوں میں اس امر کا لحاظ رکھا جائے کہ خواہ مخصوص ہوں خواہ عام نسبت آبادی کی قائم رہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ میرے کئی دوست مجھ مجھ پر اعتراض کریں گے کہ ۔ اس وقت تک تو میں زور دیتا رہا ہوں کہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق ووٹ ملیں لیکن اب میں نے خود