انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 401

۴۰۱ جُداگانہ انتخاب کے طریق کو منسوخ کرایا جائے- گویا چونکہ حکومت ہند مسلمانوں سے جُداگانہانتخاب کا وعدہ کر چکی ہے اب صاف لفظوں میں تو مسلمانوں سے کمیشن نہیں کہنا چاہتا کہ تم اس حق کو چھوڑ دو- ہاں وہ مخفی ذرائع سے زور دے کر انہیں مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس حق کو چھوڑ دیں- مگر میں کمیشن کے ممبروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ وعدہ کے ایفاء کا یہ بہت ہی برا طریق ہے اور علم الاخلاق کے رو سے یہ وعدہ کا پورا کرنا نہیں بلکہ اس کا توڑنا سمجھا جاتا ہے- کمیشن کے ممبروں کو لارڈ منٹو کا یہ اقرار نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ جو مسلمان نمائندے جداگانہ انتخاب کے ذریعہ سے چنے جائیں، وہ حقیقی طور پر مسلمان نمائندے نہیں ہو سکتے اور اس کی روشنی میں دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا اس قسم کے تجربے کا وقت آ گیا ہے؟ پھر کمیشن کو یہ بھی دیکھنا چاہئے تھا کہ اب بھی انتخاب کا ایک حصہ مخلوط ہے کیا اس تجربہ میں وطنیت کا کوئی نمونہ نظر آتا ہے؟ کیا یونیورسٹیوں کی نشستیں مسلمانوں کو مل رہی ہیں اگر پنجاب اور بنگال میں بھی مسلمان یونیورسٹیوں کی نشستیں حاصل نہیں کر سکے تو اس قسم کے انتخاب کی برکات کا انہیں کس طرح قائل کیا جا سکتا ہے؟ اور جب تجربہ بتاتا ہے کہ ہندو وطنیت نہیں بلکہ مذہب کو ترجیح دیتا ہے تو پھر اس تجربہ کے لئے مسلمانوں کو مشورہ دینا نہیں بلکہ ان کی اکثریت کو تباہ کر کے مجبور کرنا کس طرح قرین انصاف ہو سکتا ہے- میں گو تفصیل سے اس امر کو بیان نہیں کر سکتا لیکن اس جگہ مختصراً اس امر کی طرف اشارہ کر دیتا ہوں کہ جداگانہ انتخاب کا اصول اس قدر برا نہیں ہے جس قدر کہ ظاہر کیا جاتا ہے بلکہ کسی نہ کسی صورت میں اس اصل کو سیاسیات نے تسلیم کیا ہوا ہے- پس اس کی مخالفت بوجہ اصول کی خرابی کے نہیں ہے بلکہ اس کی شکل کے اختلاف کی وجہ سے ہے- ہندوستان کے جداگانہ انتخاب اور دوسرے ملکوں کے جداگانہ انتخاب میں فرق صرف یہ ہے کہ باہر کے ملکوں میں اس کی بنیاد نسل یا علاقہ یا پیشہ پر رکھی جاتی ہے اور ہندوستان میں اس کی بنیاد مذہب پر ہے- چنانچہ انگلستان میں ہاؤس آف لارڈز (HOUSE OF LORD)کی بنیاد اسی اصل پر پڑی ہے- سیکنڈ چیمبر (SECOND CHAMBER) کی خوبیاں تو بعد میں معلوم ہوئی ہیں لیکن لارڈز پہلے سے اپنا حق سمجھتے تھے کہ انہیں حکومت کے مسائل میں عذر کرنے کا موقع دیا جائے اور یہ کہ ان کے انتخاب کو عام لوگوں کے ووٹ پر نہ رکھا جائے کیونکہ اس طرح ان کا انتخاب خطرہ میں ہوگا- بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ جب ایک شخص ذاتی حیثیت میں بادشاہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں