انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 400

۴۰۰ زمانہ نہیں رہا کہ ہم اس امر کا خیال کریں کہ ہندوستان کا بڑا حصہ مسلمان حکومت سے بطور انعام یا بطور مستاجری ہمیں ملا تھا اس لئے مسلمانوں کو کوئی سیاسی اہمیت حاصل نہیں- اور پھر وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی خدمات کی قیمت ادا ہو چکی- یا یہ کہ اب ان سے بڑھ کر خدمت کرنے والے لوگ پیدا ہو گئے ہیں اس لئے ہم نے جن صوبہ جات میں مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد نیابت دی تھی اسے اب واپس لیتے ہیں- لیکن وہ یہ بات کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ پنجاب اور بنگال کی اکثریت کی قربانی کے بدلہ میں انہوں نے دوسری صوبہ جات کے مسلمانوں کو ان کے حق سے زائد دیا تھا کیونکہ یہ امر حکومت ہند کے ریکارڈ کے خلاف ہے- اگر انہیں وہ زیادتی گراں معلوم ہوتی ہے تو وہ بے شک اسے واپس لے لیں لیکن وہ ہم سے اس قربانی کا مطالبہ نہ کریں جو قربانی ہم کسی صورت میں کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور جو مسلمان نمائندہ بھی اس فیصلے پر راضی ہو گیا کہ پنجاب اور بنگال کی اکثریت کو قربان کر دیا جائے تو مسلمان اسے یقیناً غدار سمجھیں گے اور میرے نزدیک وہ ایسا سمجھنے میں حق بجانب ہونگے- کمیشن کی یہ دلیل کہ کسی قوم کو مستقل میجارٹی نہیں دی جا سکتی بالکل بے حقیقت ہے- میجارٹی کو مستقل میجارٹی ہی دی جاتی ہے- اقلیت کو میجارٹی بے شک نہیں دی جاسکتی مگر اس مستقل اور غیر مستقل کی کوئی شرط نہیں- لیکن کمیشن کا فعل تو بالکل ہی عجیب ہے کہ اس نے اقلیت کو تو قانوناً اکثریت دے دی ہے لیکن اکثریت کو اکثریت دینے سے انکار کر دیا ہے- ساتویں غلطی سائمن کمیشن نے اس فیصلہ میں یہ کی ہے کہ آخر میں اس حقیقت کو بھی ظاہر کر دیا ہے کہ اس کا یہ فیصلہ کن مخفی اغراض پر مبنی ہے- کمیشن پنجاب اور بنگال میں جائنٹالیکٹوریٹ (JOINT ELECTORATE) کے چھوڑنے کی تحریک کے متعلق لکھتا ہے- ‘’ہم نے یہ آخری تجویز جو درحقیقت مسلمانوں کو دو راستوں میں سے ایک کے منتخب کرنے کا حق دیتی ہے اس لئے پیش کی ہے- کیونکہ ہم سچے دل سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ جس قدر ذرائع ممکن ہو سکیں انہیں اختیار کر کے جداگانہ انتخاب کے طریق کو کم کیا جائے- اور دوسرے (یعنی مشترک( طریق انتخاب کے لئے عملی تجربہ کا موقع نکالا جائے’‘- ۵۸؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ سائمن کمیشن کا اصل منشاء یہ ہے کہ مسلمانوں کو مجبور کر کے