انوارالعلوم (جلد 11) — Page 397
۳۹۷ یونیورسٹی اور ڈپرسڈ کلاسز (DEPRESSED CLASSES) کے نام سے ان کی اکثریت کو صرف مزید تقویت دی گئی ہے- اور پنجاب میں بھی یہی بات ہے کہ خاص منافع کے نام سے ہندوؤں اور سکھوں کو اکثریت دے دی گئی ہے- مگر سوال یہ ہے کہ یہ خاص منافع کی نشستیں کس نے قائم کی ہیں- آیا قانون نے یا مسلمانوں نے- جو قانون اس قسم کی مصنوعی شاخیں پیدا کر کے ایک اکثریت کی اکثریت کو باطل کر دیتا ہے کیا وہ ظالمانہ نہیں اور کیا اس کا بدلنا کمیشن کا فرض نہ تھا کیا اس قسم کی خاص نشستیں انگلستان میں جاری ہیں وجہ کیا ہے کہ وہاں تو تجارت کے باوجود ہندوستان سے زیادہ اہم ہونے کے علیحدہ نمائندگی کی مستحق نہیں قرار پاتی اور ہندوستان میں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے- اگر انگریزی تجارت بوجہ غیر ملکی ہونے کے خاص نمائندوں کی مستحق تھی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ انگریزوں کو زائد نمائندگی دینے کے لئے ہندوؤں کو بھی زائد نمائندگی دے کر مسلمانوں سے بڑھایا جاتا ہے مگر میں اس سوال کے متعلق آگے چل کر زیادہ تفصیل سے لکھوں گا اس لئے یہاں اس کا ذکر چھوڑتا ہوں- پانچویں غلطی سائمن کمیشن نے اس فیصلہ میں یہ کی ہے کہ ایک طرف تو وہ فیڈرل اصول کو جاری کر کے یہ اصل تسلیم کرتا ہے کہ ہندوستان کے صوبہ جات ایک آزاد ہستی رکھتے ہیں یا لارڈ منٹو (LORD MINTO) کے الفاظ میں ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک براعظم ہے- لیکن اس کے برخلاف جب مسلمانوں کے حقوق کا سوال آتا ہے تو وہی کمیشن یہ کہتا ہے کہ چونکہ دوسرے صوبوں میں مسلمانوں کو زیادہ حق مل گیا ہے اس لئے پنجاب اور بنگال میں ان کی میجارٹی قائم نہیں رکھی جا سکتی- کیا وہ صوبہ جات جو فیڈریشن کے اصول پر زور دیتے ہیں اس امر کو پسند کر سکتے ہیں کہ ایک صوبہ کا حق دوسرے کو دے دیا جائے- کیا دنیا میں کسی اور جگہ بھی یہ قائدہ ہے کہ ایک پارٹی کو ایک صوبے میں زیادہ حق دے دیا جائے اور دوسری کو دوسرے میں- کیا اس قسم کا فیصلہ آسٹریلیا یا کینیڈا کے صوبوں کے متعلق کوئی کمیشن بغیر خطرناک نتائج پیدا کرنے کے کر سکتا ہے- پھر یہ قربانی پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کس طرح جائز ہو سکتی ہے- کیا کبھی بھی بنگال اور پنجاب کے باشندوں نے سائمن کمیشن یا کسی اور کمیشن کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان کے حقوق دوسرے صوبوں کے مسلمانوں میں تقسیم کر دے اور وہ بھی اس طرح کہ مسلمان ہر جگہ کمزور ہو جائیں- میں ذاتی طور پر تو اس امر کے لئے تیار ہو جاؤں گا کہ اگر مثلاً یو-پی اور بہار میں مسلمانوں کو میجارٹی دے دی جائے تو بنگال اور پنجاب