انوارالعلوم (جلد 11) — Page 394
۳۹۴ سے جداگانہ انتخاب کو چھوڑ دیں تب ہو سکتا ہے کہ دوسرے صوبوں میں ان کا حق کم کرنے کے بغیر انہیں ان دونوں صوبوں میں آزاد مقابلہ کی اجازت دے دی جائے- اب ایک ادنیٰ غور سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ دونوں دعوے متضاد ہیں- کیونکہ ایک طرف تو مسلمانوں کو پنجاب اور بنگال میں میجارٹی (MAJORITY)سے اس لئے محروم کیا گیا ہے کہ جداگانہ انتخاب ان کے مطالبہ پر جاری کئے گئے ہیں اس وجہ سے انہیں مستقل اکثریت کا حق نہیں دیا جا سکتا- دوسری طرف کمیشن کہتا ہے کہ جداگانہ انتخاب کا طریق چھوڑ کر مخلوط انتخاب کو اختیار کرنا مسلمانوں کے اختیار میں نہیں بلکہ دوسری قوموں کی رضامندی پر مبنی ہے- اگر یہ تبدیلی دوسری قوموں کی رضامندی پر مبنی ہے تو مسلمانوں کی وجہ سے اس قانون کا اجراء نہ ہوا بلکہ سب قوموں کے لئے ہوا- پس کمیشن کا جداگانہ انتخاب کی بناء پر مسلمانوں سے کسی قربانی کا مطالبہ کرنا درست نہ ہوا- لیکن اگر یہ درست ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کی خاطر جاری کیا گیا ہے اور اس وجہ سے انہیں اکثریت کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے تو پھر اس کا ترک کرنا بھی صرف انہی کی مرضی پر منحصر ہونا چاہئے نہ کہ دوسروں کی رضامندی پر- تیسری بات جو کمیشن کے اس فیصلہ میں خلاف عقل نظر آتی ہے یہ ہے کہ انہوں نے یہ غور نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں کو کیا دیتے ہیں اور ان سے کیا لیتے ہیں- وہ جو کچھ مسلمانوں کو دیتے ہیں وہ چند نشستیں ہیں اور جو لیتے ہیں وہ اکثریت ہے اور اقتصادیات کا یہ ایک موٹا اصل ہے کہ چیزوں کی قیمت ان کی تعداد کے لحاظ سے نہیں بلکہ ان کے فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے- کیا سرجان سائمن اپنی پارٹی کی طرف سے یہ سمجھوتہ کسی دوسری پارٹی سے کرنے کو تیار ہونگے کہ جس دفعہ ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں میجارٹی حاصل ہو سکتی ہو وہ اس میجارٹی کو چھوڑ دیں- اور بجائے اس کے آئندہ مختلف پارلیمنٹوں میں مثلاً دس فیصدی نشستیں انہیں حاصل ہو سکتی ہوں تو پندرہ فیصدی نشستیں ان کی پارٹی کو بلا مقابلہ دوسری پارٹیاں دے دیا کریں- یہ ایک موٹی بات ہے کہ دس پارلیمنٹوں کی مینارٹی کی قلیل زیادتی بھی ایک دفعہ کی میجارٹی کا مقابلہ نہیں کر سکتی- لیکن سائمن کمیشن اس ظلم اور اس تعدی کا نام برطانوی انصاف رکھتا ہے کہ مسلمانوں کو چھ صوبوں میں کچھ زائد حق دے کر وہ مسلمانوں کو دو صوبوں کی میجارٹی سے محروم کر دیتا ہے اور محروم بھی ابدی طور پر کیونکہ آئندہ میجارٹی کے امکان کو بھی وہ اس شرط سے مشروط کر دیتا ہے کہ دوسری پارٹیاں قواعد کو تبدیل کرنے پر راضی ہوں اور اتنا بھی نہیں سوچتا