انوارالعلوم (جلد 11) — Page 381
۳۸۱ انہوں نے اس سوال کا حل سودا کرنے کے لئے ملتوی کر رکھا ہے- حالانکہ اصل طریق یہ ہے کہ پہلے ہر نوجوان کے حق رائے دہندگی کو تسلیم کر کے اس کا اجراء کیا جائے پھر اس کا تجربہ ہو چکنے کے بعد مسلمانوں سے مشترکہ انتخاب کے متعلق سمجھوتہ کیا جائے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اگر مسلمانوں کے ووٹ ان کی تعداد کے مطابق ہو جائیں اور کچھ عرصہ تک انہیں الیکشن کا تجربہ کرنے کا بھی موقع دے دیا جائے تو مسلمانوں کا میلان خود بخود مشترکہ انتخاب کی طرف ہوتا چلا جائے گا- لیکن اگر ان کے اس حق کو ہندوؤں نے دوسرے امور کے لئے سودا کرنے کے طور پر محفوظ رکھا تو ان کے شبہات اور بھی بڑھتے چلے جائیں گے- لیکن اگر انتظام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوراً ہی ہر بالغ کو ووٹ کا حق نہیں دیا جا سکتا تو بہتر ہے کہ ایسے قواعد تجویز کئے جائیں کہ کمیشن کی تجویز کے مطابق ووٹروں کی موجودہ تعداد سے تین گنا زیادہ ووٹ ہو جائیں- لیکن اس امر کا خیال رکھ لیا جائے کہ مسلمانوں کا حق نہ مارا جائے اور ان کی تعداد کے مطابق ان کے ووٹروں کی تعداد ہو- کونسلوں کے ممبروں کی تعداد میں اضافہ ووٹروں کے متعلق اپنی رائے کے اظہار کے بعد میں ممبروں کی زیادتی کے سوال کو لیتا ہوں- میرے نزدیک تمام اقوام کی صحیح نمائندگی کے لئے ضروری ہے کہ جن صوبوں کی آبادی ایک کروڑ سے کم ہو ان کی کونسل کم سے کم پچھتر ممبروں کی ہو- اور ایک کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے صوبوں میں دو سو سے اڑھائی سو تک ممبروں کی تعداد مقرر کی جائے- سوائے بنگال اور یو-پی کے کہ جن کی تعداد دوسرے صوبوں سے بہت زیادہ ہے- ان دونوں صوبوں میں تین سو ممبروں کی کونسلیں مختلف علاقوں کی نمائندگی کے لئے ضروری ہیں-