انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 380

۳۸۰ جو ووٹروں پر لگائی جائیں اور جس کے نتیجہ میں قوم کو نقصان پہنچتا ہو اس کی ذمہ دار حکومت ہے نہ کہ وہ قوم- پس اس قوم کے حقوق کے نقصان کا ازالہ کرنا بھی حکومت کا کام ہے- گزشتہ سکھ حکومت کے وقت پنجاب میں مسلمانوں کی جائدادیں عام طور پر سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی تھیں اور بنگال کے برطانیہ کے ماتحت آنے کے وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندوں نے اپنے کام کی سہولت کے لئے بنگال کی اکثر زمینیں مستقل ٹھیکہ کے اصول پر چند ہندو عمال کے سپرد کر دی تھیں- اس وجہ سے پنجاب اور بنگال میں جائداد کی بنیاد پر مسلمان ووٹروں کی تعداد بہت کم ہے اور اس امر کو ہمیشہ اس بات کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو نمائندگی ان کی تعداد کے حق سے کم ملنی چاہئے اور یہ مطالبہ انہی زبانوں سے سنا جاتا ہے جو جمہوریت کا وعظ کرتے کرتے خشک ہوتی چلی جاتی ہیں- جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت انہیں اسی وقت پسند ہے جب وہ ان کے مطلب کی ہو- حالانکہ کسی قوم کو اس کی تعداد کے مطابق حق ملنا ایک ایسا معقول امر ہے کہ اس میں نہ کوئی رعایت کا پہلو ہے اور نہ کسی پر ظلم ہے- پس چاہئے کہ اگر ووٹروں کے دائرہ کو ابھی کچھ عرصہ تک محدود رکھنے کی تجویز ہو تو اس امر کا انتظام ہو جائے کہ جس جس قوم کو اس سے نقصان پہنچتا ہو اس کا ازالہ کسی دوسری طرح کر دیا جائے یعنی خاص حقوق کے ذریعہ سے اس کے ووٹروں کی تعداد اس تعداد کے برابر (نہ کہ قریباً برابر جیسا کہ سائمن کمیشن نے لکھا ہے) کر دی جائے جو اسے تناسب آبادی کے لحاظ سے حاصل ہو سکتی تھی- یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مشترکہ انتخاب پر جو زور دیا جاتا ہے اس کا راستہ بند کرنے کا الزام بھی اس قدر مسلمانوں پر نہیں ہے بلکہ گورنمنٹ پر ہے- جس نے فرنچائز (FRANCHISE)کے ایسے اصول مقرر کئے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے ووٹروں کی تعداد کم رہ جاتی ہے- اس وجہ سے وہ ڈرتے ہیں کہ جائنٹ الیکٹوریٹ (joint electorate)میں نہ معلوم ہمارا کیا حال ہوگا- اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ جائنٹ الیکٹوریٹ لے کر فرنچائز وسیع کرا لو جیسا کہ کانگریس والوں نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے تو یہ بات مسلمانوں کے شبہ کو اور بھی قوی کرتی ہے- کیونکہ اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ گو فرنچائز کی وسعت کی خوبی کو تو ہندو تسلیم کرتے ہیں لیکن