انوارالعلوم (جلد 11) — Page 379
انوار العلوم جلد ۳۷۹ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل لمبی عمر سمجھی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک خیالی فائدہ کے لئے سات سال کے لمبے عرصہ تک کونسلوں کی عمر کو لمبا کیا جائے۔ جب ہندوستان میں صوبے زیادہ ہو گئے اور کونسلوں کو اختیارات زیادہ ملے تو دوسری جمہوری حکومتوں کی طرح یہاں بھی تغیرات جلدی پیدا ہونگے اور ہونے چاہئیں۔ پس ان تغیرات کو نظر انداز کر کے یہ فرض کر لینا کہ ایسے تغیرات بہت کم ہونگے اور پھر یہ فرض کر لینا کہ وہ دو سال سے پہلے ہی ہونگے محض ایک قیاسی بات ہے۔ اگر چار پانچ صوبوں میں تغیرات ہوئے اور کسی میں پہلے الیکشن کے بعد دوسرے سال میں کسی میں تیسرے سال میں اور کسی میں چوتھے سال میں تغیر ہوا تو پھر کونسلوں اور اسمبلی کے انتخاب میں کس طرح موافقت قائم رکھی جا سکے گی؟ تو یہ قاعدہ ہونا چاہئے کہ پانچ سال کی مدت پر سب کو نسلوں کا خواہ ان کا اب ہو چکا ہو دوبارہ انتخاب : بارہ انتخاب ہو۔ سوائے اس صورت کے کہ آخری سال اب ہو اس صورت میں انتخاب اگلے انتخاب کے آخر تک کام دے گا۔ یا پھر آزاد چھوڑ دیا جائے کہ جب کسی کا انتخاب ہو ، ہو ، ایسا علاج جو مرض کو تو دور نہیں کر سکتا صرف مزید پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کس کام کا؟ درمیان میں جدید انتخاب کے دوران میں میں ام انتخاب سکے میں اس جگہ یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں گورنروں کو کونسلوں کے برخاست کرنے کا حق دیا گیا ہے وہاں خود کو نسلوں کو بھی اپنے برخاست کرنے کا حق ملنا چاہئے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک وقت ملک کی رائے ایک خاص پارٹی کی تائید میں بڑھ چکی ہو لیکن گورنر اپنے فوائد کو نظر رکھتے ہوئے کو کونسلوں کو برخاست نہ کرتا ہو۔ اس صورت میں اجازت ہونی چاہئے کہ کونسل کی کثرت رائے کونسل کے برخاست کرنے کا فیصلہ کر دے اور دوبارہ انتخاب کے ذریعہ سے اپنی طاقت کو بڑھانے کی کوشش کرے۔ کمیشن کی ایک یہ تجویز بھی ہے کہ کونسلوں کے ممبروں اور ووٹرونکی تعداد کی زیادتی وٹروں کی تعداد اور تمبروں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا جائے۔ یہ تجویز کمیشن کی نہایت معقول ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ پہلے بھی ووٹروں کی تعداد ناکافی ثابت ہوئی ہے اور اس اصلاح کی دیر سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن اس موقع پر میں ایک ضروری اضافہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ووٹروں کی قابلیت کا موجودہ معیار ایک مصنوعی معیار ہے۔ اصل میں تو ہر عاقل و بالغ روٹ کا مستحق ہے۔ پس ان حد بندیوں سے