انوارالعلوم (جلد 11) — Page 373
۳۷۳ وہی ہوتا رہے گا جو اب ہو رہا ہے- یعنی گورنر چند اقلیتوں کو ملا کر ایک وزارت مقرر کر دیتے ہیں جو کسی پارٹی کی بھی نمائندہ نہیں ہوتی- گورنر اور وزارت کے تعلقات گورنروں اور وزارت کے تعلقات کے متعلق کمیشن کی رپورٹ یہ ہے کہ: ‘’گو عام طور پر گورنر کو اپنی وزارت کے فیصلوں میں دخل نہیں دینا چاہئے لیکن پانچ مواقع پر اسے اختیار ہوگا کہ وہ دخل دے- یعنی جب وہ سمجھے کہ اس کا دخل دینا ضروری ہے- (۱) صوبہ کے امن اور سلامتی کے قیام کیلئے- (۲) بعض قوموں یا جماعتوں کے مقابل پر بعض دوسری قوموں یا جماعتوں کے فوائد کو کسی سخت نقصان سے بچانے کے لئے- (۳) تا کہ گورنمنٹ کی اس ذمہ داری کی واجبی عہدہ برائی ہو سکے جو کہ ان اقوام کے خرچ سے تعلق رکھتی ہے جو مجلس واضع قوانین کے فیصلہ کے ماتحت نہیں- (۴) تا کہ ان احکام کی تعمیل ہو سکے جو کہ کسی صوبہ کی گورنمنٹ یا گورنمنٹ ہند یا وزیر ہند کی طرف سے پہنچیں- (۵) تا کہ ان فرائض کو ادا کیا جا سکے جو کہ قانونا گورنر پر ذاتی طور پر عائد ہوتے ہیں- مثلاً ایسے فرائض جو کہ ملازمتوں کے سوال یا بیک ورڈ (BACKWARD) یعنی غیرترقییافتہ علاقوں کے متعلق ذمہ داری سے تعلق رکھتے ہیں- ۵۰؎ ان پانچ میں مواقع سے آخری تین تو کسی قدر اصلاح کے ساتھ بالکل درست ہیں اور وہ اصلاح میرے نزدیک یہ ہے کہ چوتھی صورت میں جو گورنمنٹ آف انڈیا کے الفاظ ہیں ان کی جگہ گورنر جنرل کے الفاظ رکھے جائیں اس لئے کہ بعض معاملات میں دخل اندازی کی اس وقت تک گورنر جنرل کو تو اجازت دی جا سکتی ہے جب تک کہ صوبہ جات اور مرکزی حکومت کا نظام پختہ نہیں ہوتا لیکن گورنمنٹ آف انڈیا کو جس سے مراد شروع میں یا کچھ دیر کے بعد وزارت منتخبہ ہو سکتی ہے صوبہ جات وہ اختیار دینے کو ہر گز تیار نہ ہونگے- کیونکہ احتمال ہے کہ وہ صوبہ جات کی آزادی کو کمزور کرنیکی کوشش کریں گے- اسی طرح پانچویں استثناء میں بیک ورڈ علاقوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو میرے نزدیک