انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 345

انوار العلوم جلد ۳۴۵ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل معمولی قانون ساز اختیارات نئی کونسلوں کے بہت وسیع ہونگے کیونکہ انہیں صوبہ کے امن اور اچھی طرح حکومت چلانے کے لئے قانون بنانے کے موجودہ وقت کی طرح پورے اختیارات حاصل ہونگے اور صرف ان امور کے متعلق حد بندی ہوگی (جو حد بندی اس طرح عمل میں لائی جائے گی کہ ہر قانون کے پاس کرنے سے پہلے گورنر جنرل سے اجازت لینی پڑے گی کہ جو مرکزی اسمبلی سے تعلق رکھتے ہونگے ۔ ہم پورے زور سے اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ موجودہ ایکٹ کی دفعات کو اس بارہ میں قائم رکھا جائے کیونکہ اس سے مرکزی اور صوبہ جات کے اختیارات کی اچھی تقسیم ہو گئی ہے۔ ان دفعات میں اس امر کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کسی قانون کو جو پاس ہو چکا ہو اور گورنر جنرل کی منظوری حاصل کر چکا ہو غلط قرار نہ دیا جا سکے اور اس طرح مقدمہ بازی کے دروازہ کو بند کر دیا گیا ہے جس کا اس صورت میں کہ مرکز اور صوبہ جات کے اختیارات کو زیادہ وضاحت سے تقسیم کر دیا جائے کھل جانا لازمی تھا۔ ۲۸ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آئندہ بھی کو نسلوں کے وہی اختیارات رہیں گے جو اب ہیں اور وہ اختیارات نہایت ہی قلیل ہیں اور در حقیقت ان کی موجودگی میں صوبہ جات کی کو نسلیں صوبہ جات کی کونسلیں کہلانے کی مستحق ہی نہیں ہیں اور چونکہ گذشتہ اختیارات میں یہ شرط بھی لگی ہوئی ہے کہ صوبہ جات کے متعلق قوانین گورنر جنرل کی مرضی سے مرکزی اسمبلی بنا سکتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ سائمن رپورٹ کی سفارش کے مطابق آئندہ بھی مرکزی اسمبلی گورنر جنرل کی اجازت سے صوبہ جات کے متعلق قانون بنا سکے گی۔ گویا وہ اختیارات جو صوبہ جات کو دیئے گئے تھے اس طرح وہ بھی عملاً چھینے گئے اور صرف گورنر جنرل کی مرضی کی حد بندی کے ماتحت صوبہ جات کے تمام اختیارات مرکزی اسمبلی کے ہاتھ میں چلے گئے۔ غرض جو اختیارات اس پیرا میں صوبہ جات کی کونسلوں کو دیئے گئے ہیں وہ بالکل محدود ہیں اور عملاً سب اختیارات مرکز ہی میں رہے ہیں اور صوبہ جات کے نام نہاد اختیارات کو بھی ایک طرح کا مرکزی بنا دیا گیا ہے۔ یہ شکل کسی صورت میں اٹانومی (AUTONOMY) کہلانے کی مستحق نہیں۔ اور اسے اٹانومی کہنا اٹانومی کے دعویداروں کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔