انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 344

۳۴۴ ہے- لیکن اسلامی تہذیب کا بھی گہرا اثر ان علاقوں پر ہے- اس کے برخلاف وسطی ہند میں ہندو مذہب اور ہندو تہذیب اپنے پورے زور پر نظر آتے ہیں- جنوبی ہند میں جا کر ہندو مذہب تو رہ جاتا ہے لیکن تہذیب (DRAVIDIAN) ڈریویڈین* ۴۶؎ قوم کی آ جاتی ہے- جس نے باوجود براہمنوں کے کچل دینے والے اثر کے اپنی شخصیت کو ترک نہیں کیا اور ایک ادنیٰ اشارہ پر ابھرنے کے لئے تیار ہے- پھر قومی اخلاق کا اختلاف ہے- شمال مغربی ہند کے پٹھان اور شمال مشرقی ہند کے بنگالی میں کوئی جوڑ ہی نہیں- ان دونوں کے اخلاق میں اس قدر فرق ہے جس قدر کہ ایک مانٹی نیگرو کے باشندہ اور ایک شمالی فرانس کے باشندے میں فرق ہے- سندھی کو یو-پی کے باشندوں سے کوئی بھی مناسبت نہیں اور ایک پنجابی اور بہاری کے اخلاق آپس میں کوئی نسبت نہیں رکھتے- اختلاف ہر ملک میں ہوتا ہے مگر یہ اختلاف انتہائی درجہ کا ہے- ایسا اختلاف کہ وہ ایک دوسرے کی مقامی ضرورتوں کے لئے کسی صورت میں بھی مناسب قانون نہیں بنا سکتے- نہ ایک قانون ان سب صوبوں کے لوگوں کے لئے موجب امن و برکت ہو سکتا ہے- پھر سب سے بڑھ کر ہندوستان کی ریاستوں کا سوال ہے- وہ ابھی تک کم سے کم ظاہری طور پر مختار فردی حکومت کے ماتحت ہیں- اگر ہندوستان ترقی کرنا چاہتا ہے تو ان سے کسی نہ کسی رنگ میں اس کا تعلق ضروری ہوگا- لیکن بغیر اس کے کہ وہ اپنی خود مختارانہ حیثیت کو قائم رکھ سکیں وہ کبھی بھی آزادہندوستان سے اتحاد کرنا پسند نہیں کریں گی- پس ان حالات کے ماتحت ہندوستان میں اگر کوئی طریق حکومت کامیاب ہو سکتا ہے تو وہ اتحادی یعنی فیڈرل طرز حکومت ہے اور اس وجہ سے کمیشن کی سفارش اس بارہ میں بہت وقعت اور اہمیت رکھتی ہے- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائمن رپورٹ کس قسم کی فیڈرل حکومت ہندوستان کو دینا چاہتی ہے- اس بارہ میں اس کی سفارشات اس قدر مبہم ہیں کہ ہر شخص جس نے رپورٹ پڑھی ہے اس کا خیال دوسرے سے مختلف ہے- ایک طرف تو سائمن رپورٹ کہتی ہے کہ-: ‘’ایسے علاقوں کا اتحاد جیسے کہ ریاستیں اور صوبہ جات ہند ہیں کہ پہلے (یعنی ریاستیں) تو فردی حکومت کے ماتحت ہیں اور دوسرے جمہوری اصول کے ماتحت ہیں، مجبور کرتا ہے کہ اس کی بنیاد اس اصل پر رکھی جائے کہ ممکن سے ممکن اندرونی آزادی ان علاقوں کو دی جائے جو حکومت ہند کا حصہ بنیں گے’‘- ۴۷؎ لیکن دوسری طرف وہ لکھتے ہیں-: