انوارالعلوم (جلد 11) — Page 343
۳۴۳ باب دوم ہندوستان میں اتحادی (فیڈرل) حکومت سائمن کمیشن نے مانٹیگوچیمسفورڈ سکیم کی اتباع میں ہندوستان کے لئے فیڈرل حکومت کی سفارش کی ہے اور میرے نزدیک یہ سفارش اس کی سب سے اہم سفارشوں میں سے ہے اور اسے مانٹیگوچیمسفورڈ پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ گو ثانی الذکر نے بطور تنزل کے تو اتحادی طرزحکومت کی سفارش کی تھی لیکن اپنی سفارشات کا ڈھانچہ ایسا تیار نہیں کیا تھا جو اتحادی طرزحکومت کے بالکل مطابق ہو- لیکن سائمن رپورٹ نے اپنی سکیم فیڈرل اصول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ منازل کلی طور پر اس کے اصول کے مطابق مقرر کی ہیں- ہندوستان کے حالات کو سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص بھی درحقیقت اس کے سوا کوئی سفارش نہیں کر سکتا- ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ممالک کا مجموعہ ہے جس کے باشندوں میں آہستہ آہستہ اب جا کر قومیت کا احساس پیدا ہوا ہے- لیکن وہ احساس اس قدر مضبوط نہیں کہ اس پر توحیدی (UNITARY)حکومت کی بنیاد رکھی جا سکے- دوسرے اس کی زبان ایک نہیں- ہر صوبہ کی زبان دوسرے صوبہ سے مختلف ہے بلکہ بعض صوبوں کی بھی ایک زبان نہیں- ایک ہی صوبہ کے مختلف حصوں میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں- اور اسی قدر تعداد میں تقسیم ہیں کہ اس اختلاف کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- پھر اقوام کا اختلاف بھی ہے- شمالی ہند کے ہندو جنوبی ہند کے ہندوؤں سے بالکل مختلف ہیں- جنوبی ہند کے باشندے اپنے آپ کو ویدک تہذیب سے پہلے کا مانتے ہیں- اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ویدوں نے ان کے منتروں سے اپنی تعلیم اخذ کی ہے- اس کے برخلاف شمالی ہند کے باشندے ویدوں کو نہ صرف مذہب کے لحاظ سے سب کتب پر مقدم کرتے ہیں بلکہ انہیں ابتدائے عالم میں قرار دے کر اپنی تہذیب کی بنیاد ہی ان پر رکھتے ہیں- پھر مذاہب کا اختلاف ہے- شمالی صوبہ جات میں ہندو مذہب کا زور