انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 338

۳۳۸ کے وقت اس امر کا فیصلہ کرے کہ آیا حکومت نے اپنے اختیارات سے باہر ہو کر تو کوئی قانون نہیں بنایا- کیونکہ اس امر کا فیصلہ مجلس واضع قوانین پر چھوڑ دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی ایک فریق مقدمہ کو خود اپنے مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے جج مقرر کر دیا جائے اور سوئٹنررلینڈ نے جو صورت فیصلہ کی تجویز کی ہے یعنی سب ملک کی ریفرنڈم وہ اس ملک کے لحاظ سے بالکل معقول ہے اور یہ ہر گز نہیں کہا جا سکتا کہ سوئٹنررلینڈ میں کوئی سپریم کورٹ نہیں ہے- ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوئٹنررلینڈ کا سپریم کورٹ یونائیٹڈ سٹیٹس کے سپریم کورٹ سے مختلف ہے- چونکہ بحث کے وقت یہ سوال بھی آ سکتا ہے کہ اگر ریفرنڈم بھی ایک قسم کا سپریم کورٹ ہے تو کیوں ہندوستان میں بھی ویسا ہی سپریم کورٹ نہ جاری کر دیا جائے- یعنی اگر کسی جماعت کو فیڈرل گورنمنٹ کے کسی فیصلہ یا قانون پر اعتراض ہو تو ملک کی عام رائے دریافت کر کے جو کثرت کی رائے ہو اس کے مطابق فیصلہ کر لیا جائے اس لئے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ اختلاف جو یورپ اور امریکہ کے ماہرین قانون میں ہوا ہے کہ آیا غیر لچکدار قانون اساسی کے لئے کسی سپریم کورٹ کا ہونا لازمی ہے یا نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ ہر ملک کے حالات کے لحاظ سے الگ قسم کے سپریم کورٹ کی ضرورت ہوا کرتی ہے- یہ موقع نہیں کہ میں تفصیلی طور پر بتاؤں کہ کس طرح مختلف ممالک کی مختلف حالتوں کے مطابق مختلف شکلوں کے سپریم کورٹ کی ضرورت ہوا کرتی ہے لیکن ہندوستان کے معاملہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ غیر لچکدار قانون اساسی کی دو بڑی ضرورتیں ہوتی ہیں- ایک تو شخصی حکومت یا آلیگار کی (OLIGARCHY) یعنی بااثر لوگوں کی حکومت کے حملہ سے بچنا اور دوسرے اکثریت کی حکومت کے حملہ سے بچنا- پہلی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آئین اساسی کے بنانے والوں کے سامنے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کسی وقت کوئی خاص علمی یا مذہبی یا سرمایہ دار یا زمیندار جماعت ملک کی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی جمہوریت کی شکل کو توڑ کر ایسے چند بااثر لوگوں کی حکومت (آلیگار کی) میں تبدیل نہ کر دے تب وہ لوگ اس خطرہ سے بچنے کیلئے ایک غیر لچکدار قانون اساسی بناتے ہیں اور اس کی تبدیلی کے متعلق ایسی شرطیں مقرر کرتے ہیں کہ جب تک اکثر افراد کی رائے اس کی تائید میں نہ ہو اس وقت تک اسے تبدیل نہ کیا جا سکے اور اس آئین کے توڑے جانے کے احتمال کے موقع پر بھی فیصلہ ملک کی اکثر آبادی پر چھوڑتے ہیں تا کہ معلوم ہوتا رہے کہ کوئی اقلیت غفلت میں ملک پر