انوارالعلوم (جلد 11) — Page 327
۳۲۷ اس کے امن کے قیام کی راہ کھول دیں گے) یہ ہے کہ اقلیتوں کو کوئی خطرہ ہی نہیں ہے اور اقلیتیں جو مطالبات کرتی ہیں وہ قومیت کو کمزور کرنے والے ہیں اور مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کے مترادف ہے- میں پہلے ثابت کر چکا ہوں کہ اقلیتوں کے مطالبات پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا- ان کے مطالبات دوسری اقوام کے حقوق کو تلف کرنے والے ہر گز نہیں ہیں اور نہ وہ ملکی مفاد کے مخالف ہیں لیکن میں اس جگہ اختصار سے پھر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس گروہ کے ہندوؤں کی یہ کوشش کہ اقلیتوں کے مطالبات آئین اساسی میں نہ آئیں اس لئے نہیں کہ یہ لوگ نیشنلسٹ (NATIONALIST) ہیں بلکہ صرف اس وجہ سے ہے کہ کہیں اقلیتیں بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنے حقوق میں سے کچھ حصہ نہ لے لیں- ورنہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ آئین اساسی کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مختلف اقوام اس کے ذریعہ سے آپس میں ایک معاہدہ کرتی ہیں اور اقرار کرتی ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کی ہمیشہ کے لئے محافظ رہیں گی- یا تو ہندو یہ ثابت کریں کہ اقلیتیں جن امور کا مطالبہ کرتی ہیں ان میں ہندوؤں کے حقوق کا اتلاف ہے ورنہ ان کے انکار کرنے کے سوائے اس کے کیا معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کو ان کا حق دینا پسند نہیں کرتے- مثلاً تبلیغی آزادی کو لے لو- اگر ہندو اقلیتوں کو تبلیغ سے روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو انہیں اس امر پر کیوں اعتراض ہے کہ قانون اساسی میں یہ شرط رکھی جائے کہ تبلیغ آزاد ہوگی؟ اور اگر ان کا یہ ارادہ نہیں تو وہ ڈاکٹر گوکل چند صاحب نارنگ کے ان الفاظ پر کہ-: ‘’اگر آپ کے ایک ہندو بھائی کو مسلمان بنانے میں آپ کسی کو روکتے ہیں اور وہ باز نہیں آتا تو بہتر ہے کہ آپ وہاں کٹ کر مر جائیں’‘ عمل کریں تو ان کا کیا حرج ہے کہ ہندوستان کے قانون اساسی میں یہ بات آ جائے کہ تبدیلی مذہب پر کسی قسم کی کوئی پابندی مقرر نہیں کی جائے گی- یا اگر ہندوؤں کا یہ ارادہ نہیں ہے کہ انگریزوں کے خلاف خاص قواعد بنا کر ان کی ہندوستانی تجارت کو تباہ کریں تو ان کا کیا حرج ہے کہ آئین اساسی میں یہ بات آ جائے کہ ایسا کوئی قانون نہ بنایا جائے گا جس کا منشاء کسی خاص قوم کی تجارت کو جو ہندوستان کو وطن بنا چکی ہو تباہ کرنا ہو- غرض جب کہ اقلیتیں کسی اور کا حق نہیں مارتیں صرف اپنے جائز حقوق کی حفاظت