انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 326

۳۲۶ روح بھی مجلس عاملہ میں موجود نہ ہو- لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا قانون اور مجلس عاملہ دونوں کی مخالفت زیادہ آرام دہ صورت ہے یا کم سے کم ایک طرف سے اطمینان بہتر حالت ہے- اگر قانون ہو تو اقلیتوں کو شور مچانے کا موقع ہوتا ہے اور ظالم قوم کے شریف الطبع لوگوں سے اپیل کرنے کا موقع ہوتا ہے- اگر قانون بھی نہ ہو پھر تو کوئی جگہ بھی سہارا لینے کے لئے باقی نہیں رہتی- ہندو نقطئہ نگاہ اقلیتوں کی حفاظت کی تدابیر کے متعلق اس جگہ میں ہندو نقطئہ نگاہ کو بھی پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی بہت کچھ انگریزوں کی رائے پر اثر انداز ہوتا ہے- انگریز فطرتا حفاظتی تدابیر کی ظاہری صورت کے مخالف ہے- جس کی وجہ سے وہ ہر اس رائے کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے جو ایسی تدابیر کی ضرورت کو اڑا دے- وہ حفاظتی تدابیر کی ضرورت تسلیم کرنے میں اپنے قومی نظام کی شکست محسوس کرتا ہے- اور اسے یہ خیال نہیں آتا کہ ہر قوم کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس کا نظام اپنے ارتقاء کے دوران میں ان حالات سے گزر چکا ہے جن میں سے ہندوستان اب گزر رہا ہے- اس تمام تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے جو گزر چکی ہے رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ کی ایک دوسرے کے خلاف تدابیر کو یاد کرتے ہوئے آج کوئی انگریز یہ پسند نہ کرے گا کہ وہی جذبات اور وہی حالات اگر دوبارہ پیدا ہو جائیں تو بجائے آئینی حفاظت کے اس کے ملک کو دوبارہ پہلے سے حالات میں سے گزارا جائے- مگر انگریزی قوم اس تاریخ کو بھول جاتی ہے اور حفاظتی تدابیر کا ذکر آتے ہی سمجھنے لگتی ہے کہ اس سے اس کے نظام کا نقص بیان کرنا مطلوب ہے اور وہ جھٹ اس طرح ہوشیار ہو جاتی ہے کہ جس طرح اس کی عزت پر کوئی حملہ ہونے لگا ہو- پس اندریں حالات بھی ضروری ہے کہ ہندو نقطئہ نگاہ کی حقیقت بھی بیان کر دی جائے تا کہ کم سے کم وہ جو دلیل کی قوت کو تسلیم کرتے ہیں دھوکے میں نہ رہیں- ہندو نقطئہ نگاہ (جس سے میری مراد ان ہندوؤں کا نقطئہ نگاہ ہے جو مہاسبھائی ذہنیت کے ہیں اور جن کا غلبہ اس وقت اپنی قوم پر ہے- ورنہ ہندوؤں میں بہت شریف الطبع اور منصف مزاج لوگ بھی ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ سرسپرو جیسے اور بھی کئی آدمی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں موجود ہوں گے- جو اپنی قوم کے خاموش حصہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ملک کی آزادی اور