انوارالعلوم (جلد 11) — Page 325
۳۲۵ نہیں کیا کہ گورنر ایگزیکٹو (EXECUTIVE) افسر ہوگا- اور اس وجہ سے لازماً وہ ایگزیکٹو حالات سے متاثر ہوگا اور خالص قانونی نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھنا اس کے لئے مشکل ہوگا اور جو فیصلے وہ کرے گا وہ ایگزیکٹو حالات اور اس کی وزارت کے خیالات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے- خلاصہ یہ ہے کہ کمیشن نے جس مشکل کی بناء پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئین اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کی تفصیل نہیں ہونی چاہئے وہ مشکل گورنر کو ہدایت دینے کی صورت میں بھی اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ شدت سے قائم رہتی ہے- اور جس مشکل سے بچنے کے لئے اس نے عدالتوں کی بجائے گورنر کے ذمہ اس کام کو لگایا ہے وہ مشکل گورنر کے راستہ میں اور بھی اہم صورت میں پیدا ہو جاتی ہے اور حقیقت حال پر غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچنا پڑتا ہے کہ یا تو گورنر یہ کام کر ہی نہیں سکے گا اور طبعی طور پر اس کے لئے اس کام کو کرنا ناممکن ہوگا اور کام یونہی پڑا رہے گا- اور یا پھر گورنر کا صرف نام ہوگا اور کریں گے دوسرے لوگ اور انصاف کا حاصل کرنا بالکل محال ہوگا- اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کانسٹی ٹیوشن خود تو اپنے پر عمل کرا نہیں سکتی اور نہ انسان آئندہ کی ضرورتوں کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے- پھر کیا جائے تو کیا؟ میرا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان آئندہ کی سب ضرورتوں کو نہیں سمجھ سکتا لیکن اس وجہ سے کہ ہم آئندہ کی ضرورتوں کو نہیں سمجھ سکتے موجودہ ضرورتوں کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے- وہ طریقے جو اس وقت تک دنیا کی تاریخ سے اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کے معلوم ہو چکے ہیں اور وہ ارادے جو اکثریت آئندہ کے متعلق ظاہر کر چکی ہے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتوں کی حفاظت کی دفعات آئین اساسی میں رکھ دی جائیں- ہندوستان ہی ایک ایسا ملک نہیں ہے کہ جس میں مختلف اقلیتیں پائی جاتی ہیں اور ممالک بھی ہیں اور انہوں نے یا معاہدات کے ذریعہ یا آئین اساسی کے ذریعہ سے مختلف اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی کوشش کی ہے اور یہ درست نہیں کہ سب کے سب اس میں ناکام رہے ہیں- بعض ممالک میں یہ حفاظتی طریق کامیاب ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں- چنانچہ زیکو سلویکا میں بہت حد تک کانسٹی ٹیوشن کی وجہ سے اقلیتوں کو اپنے حقوق کی حفاظت میں کامیابی ہو رہی ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون خالی کافی نہیں ہوتا جب تک اس کے صحیح استعمال کی