انوارالعلوم (جلد 11) — Page 323
۳۲۳ جن میں دخل اندازی قانون ساز مجالس کیلئے جائز نہ ہوگی تو جو فیصلہ بھی وہ کرے گی وہ اصولاً آئینی ہوگا- اور اس صورت میں گورنر کا ان کے فیصلہ کو رد کرنا یا اسے تبدیل کرنا غیرآئینی ہوگا- اور اس کے دخل دینے کے معنی یہ ہونگے کہ قانون ساز مجلس تھی تو اپنے اختیارات کے دائرہ کے اندر لیکن گورنر نے بعض اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی خاطر اس کے بنائے ہوئے قانون کو رد کر دیا- لیکن کیا اس اصل پر کوئی آئینی حکومت چل سکتی ہے؟ اور کیا اس قسم کی غیرآئینی دخل اندازی دیر تک برداشت کی جا سکتی ہے؟ اس طرح اقلیتیں تو یہ محسوس کریں گی کہ وہ گورنر کے احسان پر زندہ ہیں اور صرف رحم کے طور پر ان سے سلوک کیا جا رہا ہے اور اکثریت بھی اس وجہ سے انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھے گی اور ایک نیا آفیشل بلاک OFFICIAL BLOCK)) بن جائے گا جو ایسا ہی ملک کے لئے مضر ہوگا جیسا کہ پہلا آفیشل بلاک مضر ہو رہا ہے- لیکن اگر اس کے بر خلاف آئین اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کا ذکر آ جائے تو بالفرض اگر گورنر کے ہاتھ میں بھی اختیار رکھا جائے تو بھی اس کا دخل دینا آئینی سمجھا جائے گا اور اقلیتوں کو بھی یہ احساس نہ ہوگا کہ وہ کوئی احسان طلب کر رہی ہیں بلکہ وہ جب طلب کریں گی اپنا حق طلب کریں گی- (۲) دوسرا اعتراض کمیشن کا یہ ہے کہ اگر قانون اساسی میں اقلیتوں کے حقوق کی دفعات کو شامل کیا گیا تو مقدمہ بازی بڑھ جائے گی کیونکہ عدالتوں میں کمزور اور مضبوط ہر قسم کے مقدمات چلائے جا سکتے ہیں- اس کے متعلق میرا یہ سوال ہے کہ گورنر کا رویہ ایسے اوقات میں کیا ہوگا؟ کیا یہ ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے جس معاملہ کو چاہے گا رد کر دے گا اور جسے چاہے گا زیر غور لے آئے گا یا ہر معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرے گا- یا یہ کہ کسی دوسرے افسر سے رپورٹ لے کر اگر وہ سفارش کرے کہ درخواست قابل غور ہے تو وہ غور کرے گا ورنہ نہیں؟ اگر پہلی صورت ہوگی اور وہ بغیر درخواست پڑھنے کے صرف درخواست کنندوں کے نام دیکھ کر فیصلہ کر دیا کرے گا تو ایسے فیصلہ کی حقیقت کچھ بھی نہ ہوگی- اور اگر وہ کسی دوسرے افسر کی رپورٹ پر فیصلہ کرے گا کہ معاملہ قابل غور ہے یا نہیں تو اس کی دو صورتیں ممکن ہیں- اول یہ کہ وزیر متعلقہ کی رپورٹ پر فیصلہ کرے- یہ صورت ظاہر ہے کہ ایسی ہی ہے کہ کسی ملزم سے رائے لی جائے کہ تمہارے