انوارالعلوم (جلد 11) — Page 319
۳۱۹ تین چارسو روپیہ وہ ادا کر چکا ہے لیکن ابھی تین چار سو کا قرض موجود ہے باوجود واویلا کرنے کے ایسے لوگوں کی مشکل اب تک حل نہیں ہوئی- میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ سب امور اقلیتوں کی حفاظت کی تدابیر سے حل ہو جائیں گے کیونکہ ان میں سے بعض تو اس مد میں آ ہی نہیں سکتے- میرا صرف یہ مطلب ہے کہ باوجود اس وقت تک پورے اختیارات ہونے کے اور آفیشل بلاک ہونے کے گورنر ان مصائب کو بھی نہیں دور کر سکے جن کی حقیقت سے وہ خوب آگاہ ہیں اور جن کی شناعت کو وہ تسلیم کرتے ہیں تو آئندہ تھوڑے اختیارات کے ساتھ وہ کب حقیقی یا سیاسی اقلیتوں کی مدد کر سکیں گے- (سیاسی اقلیت سے میری مراد بنگال اور پنجاب کے مسلمان ہیں جو اکثریت کے باوجود قانوناً اقلیت میں بدل دیئے گئے ہیں اور آہستہ آہستہ انہیں اس قدر کمزور کر دیا گیا ہے کہ خاص تدابیر کے بغیر اب وہ ابھر نہیں سکتے-) غرض گورنروں کے ذریعہ سے اقلیتوں کی حفاظت کا طریق بہت ناقص ہے- گورنروں کو بے شک باقی ملکوں کے آئینی گورنروں کی طرح خاص اختیارات ملنے چاہئیں لیکن وہ خاص حالات کے متعلق ہونے چاہئیں نہ کہ ان امور کیلئے جو ہندوستان کا روز مرہ کا شغل بن رہے ہیں- ایسے امور کی اصلاح تو قانون اساسی ہی کے ذریعہ سے ہو سکتی ہے اور ہونی چاہئے- گورنروں کا ان امور کے متعلق بااختیار ہونا یوں بھی مصلحت کے خلاف ہے کیونکہ آئندہ گورنر آئینی گورنر ہونگے اور ان کا اصل کام غیر جانبدارانہ رویہ سے اخلاقی اثر ڈال کر لوگوں سے کام لینا ہوگا- پس ان کے سپرد اقلیتوں کے جھگڑوں کو چکانے کا کام کر دینا ان کی پوزیشن کو کمزور کر دے گا اور وہ کبھی بھی اس رسوخ کو حاصل نہ کر سکیں گے جس کے بغیر اپنے فرائض کی ادائیگی ان کے لئے مشکل ہوگی- علاوہ ازیں اقلیتیں اس بات سے بھی جائز طور پر خائف ہیں کہ گورنر یقیناً زبردست اقوام کے ساتھ ہوں گے کیونکہ اس کے بغیر وہ حکومت کو صحیح طور پر چلا نہیں سکتے- اسی وجہ سے اگر اختیارات ان کے سپرد ہوں گے تو اقلیتیں خواہ حقیقی ہوں خواہ سیاسی سخت خطرہ میں رہیں گی- نیز سیاسی طور پر بھی اس علاج پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ گورنروں کے سپرد ان اختیارات کو کر دینے کے یہ معنی ہونگے کہ صوبہ جاتی آزادی کبھی مکمل ہی نہ ہو کیونکہ