انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 313

انوار العلوم جلدا سم اسام ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل اول مطالبہ مکمل فیڈرل کانسٹیٹیوشن (FEDERAL CONSTITUTION) کا ہے۔ اس کے متعلق یہ کہہ دینا کافی ہے کہ دنیا کی قریباً سب نئی حکومتیں یا نئے نظام فیڈرل اصول پر ہی طے ہو رہے ہیں پس اس مطالبے کو ملک و حکومت کے مفاد کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔ دوسرے مطالبہ کا ایک حصہ سرحدی صوبہ اور بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے مطابق حق دینے کا ہے۔ یہ مطالبہ بھی ملک و حکومت کے مفاد کے خلاف نہیں کیونکہ دنیا کی کوئی آئینی حکومت ایسی نہیں جس میں سب حصص ملک کو یکساں حقوق نہ دیئے گئے ہوں۔ دوسرا حصہ اس مطالبہ کا سندھ کی آزادی کا ہے۔ اس حصہ کو بھی نظام یا حکومت کی تباہی کا موجب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دس گیارہ صوبوں میں ایک اور صوبہ کی زیادتی ہرگز نظام حکومت کو تباہ نہیں کر سکتی اور نہ قانون اساسی کے اصول میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف کوئی بات پائی جاتی ہے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ ہر قوم کے لئے اس کی تعداد کے مطابق نمائندگی کا انتظام کیا جائے۔ یہ مطالبہ بھی کسی صورت میں حکومت کو کمزور کرنے کا موجب نہیں ہے کیونکہ اصول نیابت کی تکمیل ہی اس اصل پر مبنی ہے کہ ہر جماعت اپنی تعداد کے مطابق حقوق حاصل کر سکے۔ چنانچہ آئے دن انتخاب کے نئے سے نئے قواعد جو تیار ہوتے رہتے ہیں تو ان کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ مختلف جماعتوں کی نیابت ان کی تعداد کے مطابق ہو سکے۔ چنانچہ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے پروپورشنل ریپریزنٹیشن (PROPORTIONAL REPRESENTATION ) (یعنی نیابت مطابق تعداد) کا اصول ایجاد کیا گیا ہے اور اسے اس قدر ترقی دی گئی ہے کہ اس وقت تک کئی در جن طریق بلکہ ایک ماہر کے بیان کے مطابق قریباً تین سو طریق اس کے ایجاد ہو چکے ہیں۔ دوسرا حصہ اس مطالبہ کا یہ ہے کہ جہاں اکثریت کی کونسلوں کی اکثریت کو نقصان نہ پہنچتا ہو وہاں قلیل التعداد جماعتوں کے ہر قسم کے مفاد کی نیابت کی خاطر ان کے اصل حق سے کچھ زائد دے دیا جائے۔ اس مطالبہ کی مثال مجھے اس وقت کوئی معلوم نہیں۔ لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ زیکو سلویکا کی کونسل اور سینٹ میں غالبا رو تھیئنیز (RUTHENIANS) کو ان کے اصل حق سے کچھ زائد حق ملا ہوا ہے۔ چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی اسمبلی میں اقلیتوں کی نمائندگی اس قدر ہو کہ ان کی مرضی