انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 312

انوار العلوم جلد ؟! ۲ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کامل کا حل باب ہفتم ہندوستانی اقلیتوں کے مطالبات اصول آئینی کے خلاف نہیں ان اصول کو بیان کرنے کے بعد جو اقلیتوں کے متعلق حفاظتی تدابیر کا فیصلہ کرتے ہوئے مد نظر رکھنے چاہئیں، میں اب یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی اقلیتوں کے جو مطالبات ہیں، وہ اصولی طور پر ان آئینی اصول کے خلاف نہیں ہیں جو مختلف مہذب ممالک میں تسلیم کئے جاچکے ہیں اس لئے بادی الرائے میں انہیں رد نہیں کیا جا سکتا بلکہ مناسب طریق پر ان کا ہندوستان کے آئندہ آئین اساسی میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔ میں اس وقت تفصیلی بحث میں نہیں پڑوں گا کیونکہ وہ بحث اسی وقت مناسب ہوگی جب ان اصول کو عملی شکل دینے کے متعلق جو تجاویز پیش ہو چکی ہیں یا میں خود پیش کروں گا ان کی خوبی یا برائی زیر بحث آئے گی۔ فی الحال میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر ایک مطالبہ جو ہندوستان کی اقلیتیں کرتی ہیں ان کی مثال مختلف ممالک کے آئین اساسی میں ملتی ہے جس کی وجہ سے ہم ان مطالبات کو خلاف اصول نہیں کہہ سکتے۔ ذاتی طور پر تو میں اس امر کا قائل نہیں کہ جو امر کسی پہلے آئین اساسی میں نہ پایا جاتا ا ہو ہو وہ و ضرور خلاف اصول اور مضر ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ جو بات ہم سے پہلے لوگوں کو نہیں سوجھی وہ ہمیں بھی نہ سوجھے۔ لیکن چونکہ لوگوں نے یہ عادت بنالی ہے کہ بجائے بات کی معقولیت دیکھنے کے یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے مسلمہ معقول آدمیوں نے اسے قبول کیا ہے یا نہیں اس لئے میں دنیا کے مختلف آئینی مسودات سے یہ ثابت کرتا ہوں کہ یہ سب کے سب مطالبات معقول تسلیم کئے جاچکے ہیں اور حسب ضرورت مختلف ممالک کے آئین اساسی میں شامل ہیں۔