انوارالعلوم (جلد 11) — Page 312
۳۱۲ باب ہفتم ہندوستانی اقلیتوں کے مطالبات اصول ِآئینی کے خلاف نہیں ان اصول کو بیان کرنے کے بعد جو اقلیتوں کے متعلق حفاظتی تدابیر کا فیصلہ کرتے ہوئے مدنظر رکھنے چاہئیں، میں اب یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی اقلیتوں کے جو مطالبات ہیں وہ اصولی طور پر ان آئینی اصول کے خلاف نہیں ہیں جو مختلف مہذب ممالک میں تسلیم کئے جا چکے ہیں اس لئے بادی الرائے میں انہیں رد نہیں کیا جا سکتا بلکہ مناسب طریق پر ان کا ہندوستان کے آئندہ آئین اساسی میں شامل کیا جانا ضروری ہے- میں اس وقت تفصیلی بحث میں نہیں پڑوں گا کیونکہ وہ بحث اسی وقت مناسب ہوگی جب ان اصول کو عملی شکل دینے کے متعلق جو تجاویز پیش ہو چکی ہیں یا میں خود پیش کروں گا ان کی خوبی یا بُرائی زیر بحث آئے گی- فی الحال میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر ایک مطالبہ جو ہندوستان کی اقلیتیں کرتی ہیں ان کی مثال مختلف ممالک کے آئین اساسی میں ملتی ہے جس کی وجہ سے ہم ان مطالبات کو خلاف اصول نہیں کہہ سکتے- ذاتی طور پر تو میں اس امر کا قائل نہیں کہ جو امر کسی پہلے آئین اساسی میں نہ پایا جاتا ہو وہ ضرور خلاف اصول اور مضر ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ جو بات ہم سے پہلے لوگوں کو نہیں سوجھی وہ ہمیں بھی نہ سوجھے- لیکن چونکہ لوگوں نے یہ عادت بنا لی ہے کہ بجائے بات کی معقولیت دیکھنے کے یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے مسلمہ معقول آدمیوں نے اسے قبول کیا ہے یا نہیں اس لئے میں دنیا کے مختلف آئینی مسودات سے یہ ثابت کرتا ہوں کہ یہ سب کے سب مطالبات معقول تسلیم کئے جا چکے ہیں اور حسب ضرورت مختلف ممالک کے آئین اساسی میں شامل ہیں-