انوارالعلوم (جلد 11) — Page 311
۳۱۱ ہیں وہ انہیں اپنی روحانی یا اہلی زندگی کے لئے مادی امور سے بھی زیادہ ضروری سمجھتی ہیں اور وہ کبھی کسی ایسے نظام حکومت کو تسلیم نہیں کر سکتیں جو ان مسائل میں دخل اندازی کرتا ہو- پس جب کسی اقلیت کو اکثریت سے یہ خطرہ ہو کہ وہ ایسے امور میں دخل اندازی کرے گی تو وہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ ان امور میں اس کی حفاظت کا انتظام کیا جائے- ہندوستان کے سوال کو حل کرتے ہوئے اس اصل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ ہندوستان میں اقلیتوں کو ان امور میں بھی اکثریت کی دخل اندازی کا خطرہ ہے- وہ صاف طور پر آئندہ مذہبی تبلیغ یا تبدیلی مذہب میں دخل اندازی کی دھمکی دے چکی ہے اور بہت سی ہندو ریاستوں میں عملاً ایسا ہو رہا ہے جیسا کہ میں پہلے ثابت کر چکا ہوں- اسی طرح گائے کی قربانی یا اس کے ذبیحہ کے متعلق بھی ریاستوں اور میونسپلٹیوں میں قواعد بن چکے ہیں اور آئندہ کیلئے دھمکی دی جا رہی ہے اور کل کو ممکن ہے کہ ورثہ، شادی وغیرہ کے متعلق بھی اکثریت قواعد تجویز کرنے لگے- پس ضروری ہے کہ ان امور کے متعلق بھی اقلیت کی حفاظت کا سامان کیا جائے- پانچواں اصل جسے اقلیتوں کی حفاظت کا فیصلہ کرتے ہوئے مدنظر رکھنا چاہئے یہ ہے کہ اقلیتیں جن امور میں حفاظت چاہتی ہیں کیا ان کے متعلق حفاظتی تدابیر کا اختیار کرنا کسی نظام کو باطل اور حکومت کو تباہ تو نہیں کر دیتا؟ اس اصل کو مدنظر رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ اگر اقلیتوں کی تدابیر حکومت کو ہی برباد کرنے والی ہوں تو پھر انہیں اختیار نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس صورت میں آئین اساسی تیار کرنے کے سوال کو ہی ترک کر دیا جائے گا- یا پھر اقلیتوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے دعویٰ کو حد سے آگے نہ بڑھائیں- چھٹا اصل یہ ہے کہ کوئی اقلیت اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے ایسے مطالبات نہ کرے جن سے کسی اور قوم کا کوئی ایسا حق جو بحیثیت قوم اسے حاصل تھا، تلف ہوتا ہو- اس اصل کی اہمیت تو ظاہر ہی ہے- جس طرح اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اکثریت کے قومی حقوق کی بھی حفاظت کی جائے اور یہ کہ ایک اقلیت کے حق کی دوسری اقلیت کے حق کے مقابلہ میں حفاظت کی جائے- مسلمانوں کے مطالبات کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے کہ جس سے اکثریت یا دوسری اقلیتوں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہو- بلکہ وہ سب ایسے مطالبات ہیں کہ اکثریت کو ان سے کوئی نقصان نہیں اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کی بھی ان میں برابر کی حفاظت مدنظر رکھی گئی ہے-