انوارالعلوم (جلد 11) — Page 309
۳۰۹ نقصان ہے اور نہ اکثریت کو کوئی فائدہ ہے ان کے متعلق یونہی یہ شبہ نہ کرے کہ اکثریت ان میں جبر سے کام لے گی اور اگر اکثریت ایسا کرے بھی تو چونکہ وہ غیر ضروری ہیں اقلیت کو ان میں صبر سے کام لے کر ملک کی فضاء کو درست بنانے کی کوشش کرنی چاہئے- اب میں مسلمانوں کے مطالبات پیش کرتا ہوں تا کہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کیا وہ امور قومی یا انفرادی ترقی کیلئے ضروری ہیں؟ مسلمانوں کے مطالبات یہ ہیں-: ۱- ہندوستان کی آئندہ حکومت اشتراکی اصول پر ہو- یعنی مرکزی حکومت کو صوبہ جات سے اختیار ملیں نہ کہ مرکزی حکومت سے صوبہ جات کو اور سوائے ان امور کے جو سارے ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا اختیار صوبہ جات مرکزی حکومت کو دیں باقی سب امور صوبہ جات کے قبضہ میں رہیں- ۲- سرحدی صوبہ اور بلوچستان کو بھی دوسرے آزاد صوبوں کی طرح حکومت دی جائے اور سندھ کو بمبئی سے آزاد کر کے نیا صوبہ بنایا جائے اور اسے بھی آزاد صوبوں کے برابر حقوق دیئے جائیں- ۳- اس امر کا انتظام کر لیا جائے کہ تمام اقوام کی نمائندگی ان کی تعداد کے مطابق ہو- سوائے اس کے کہ کوئی اقلیت بہت کمزور ہو اور اس کے ہر قسم کے مفاد کی نمائندگی کے لئے ضروری ہو کہ اسے کچھ زائد نشستیں دے دی جائیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اکثریت کی اکثریت نہ جاتی رہے یا بے اثر نہ ہو جائے- ۴- مرکزی حکومت میں مسلمانوں کی نمائندگی اتنی ہو کہ ان کی مرضی کے خلاف قانوناساسی کو تبدیل نہ کیا جا سکے- ۵- قوم وار نمائندوں کا انتخاب جاری رکھا جائے جب تک کہ حقیقی یا عملی اقلیتیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع نہ حاصل کر لیں- ۶- گورنمنٹ، مذہب، تبلیغ یا تبدیلی مذہب کو کسی حد بندی یا پابندی کے نیچے نہ لائے- نہ یہ اجازت ہو کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی غرض ہندوستان کی کسی خاص قوم کے افراد کے حقوق یا اس کی تمدنی یا اقتصادی یا ادبی آزادی کو محدود کرنا ہو- نہ وہ ایسا قانون بنائے جس کی غرض کسی خاص قوم کے افراد کو خاص اختیار دے کر کسی دوسری قوم یا اقوام سے ممتاز کرنا ہو-