انوارالعلوم (جلد 11) — Page 308
۳۰۸ ہے- اگر مسلمان ہندوؤں کی گائیں پکڑ کر ذبح کرتے یا ان کو ان کا گوشت کھانے پر مجبور کرتے تو اس صورت میں اس فساد کے موجب مسلمان کہلاتے اور ہندو ہر طرح حق بجانب ہوتے- جب ایسا نہیں تو گائے کے ذبح کرنے پر فساد کرنا مسلمانوں کے حق میں دخل اندازی کرنا ہے- اگر مسلمان جن کے مذہب میں سود لینا اور دینا سخت منع ہے یا سور کھانا منع ہے بنکوں کو گرانے یا سور کھانے والوں پر حملہ کرنا شروع کر دیں تو اسے کون جائز قرار دے گا- اسی طرح اسلام کو اور بانی اسلام کو جو گالیاں ہندو مذہبی مصنفین کی طرف سے دی جاتی ہیں اور تبلیغ کو روکنے اور خالص ہندو راج کے قائم کرنے اور اسلامی زبانوں کو ہی نہیں بلکہ الفاظ کو بھی ملک سے نکال دینے کے جو منصوبے اکثر ہندو لیڈروں کی طرف سے ظاہر ہوئے ہیں ان کا باعث ہرگز مسلمان نہیں کہلا سکتے- غرض جو خطرات ہندوستان کی اقلیتوں کو ہیں وہ ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ اکثریت کے ہیں اس لئے اقلیتوں کی شکایت بجا ہے اور خاص توجہ کی مستحق ہے- اگر اصولاً دیکھا جائے تو بھی ذمہ داری اکثریت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ سائمن کمیشن نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ہندو مسلم فسادات کی اصل وجہ پولیٹیکل ہے- وہ لکھتے ہیں-: ‘’ہمارے نزدیک اصل سبب (ان فسادات کا(سیاسی طاقت کے حصول کی کوشش اور ان فوائد کو حاصل کرنا ہے جو سیاسی طاقت کے ذریعہ سے حاصل ہوتے ہیں’‘- ۳۴؎ اور یہی امر صحیح ہے جیسا کہ میں بھی ثابت کر چکا ہوں اور اگر یہ امر صحیح ہے تو ہر ایک یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ فسادات کا فائدہ اقلیت کو نہیں بلکہ اکثریت کو حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ اکثریت کے سامنے آزادی کا خیال ہوتا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اقلیت کو کمزور کر کے اپنی طاقت اس قدر بڑھائے کہ اقلیتیں اس کی آزادانہ حکومت میں روک نہ بن سکیں اور وہ پورے طور پر اپنے منشاء کے مطابق حکومت کر سکے- تیسرا اصل میں نے یہ بتایا تھا کہ اقلیتوں اور اکثریت کا تصفیہ کرتے وقت اس امر کو دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اقلیت جن امور میں حفاظت کا مطالبہ کرتی ہے کیا وہ امور قومی یا انفرادی ترقی کیلئے ضروری ہیں کیونکہ اگر وہ غیر ضروری امور ہوں تو انہیں آئین اساسی میں لانا اسے بلاوجہ پیچیدہ کر دیتا ہے- اس صورت میں ہمارا فرض ہوگا کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اقلیت کو سمجھائیں کہ وہ خواہ مخواہ ان پر زور نہ دے اور ایسے چھوٹے امور جن میں تغیر سے نہ اقلیت کو