انوارالعلوم (جلد 11) — Page 3
انوار العلوم جلد 1 مسئلہ ذہیجہ گائے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ - مسئلہ ذبیحہ گائے کے متعلق بنام ہندو، سکھ اور مسلم لیڈر صاحبان ( تحریر فرموده ۹ ستمبر ۱۹۲۹ء) آپ کو قادیان کے مریخ کے متعلق ناگوار حالات اخبارات کے ذریعہ معلوم ہو چکے ہوں گے۔ چونکہ یہ معاملہ اب بہت اہمیت اختیار کرتا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اس بارہ میں میری مزید خاموشی سلسلہ احمدیہ کے مفاد کے بھی خلاف ہے اور ملک کے امن کی بربادی کا بھی موجب ہے اس لئے پیشتر اس کے کہ میں کوئی ایسی راہ اختیار کروں جو احمد یہ سلسلہ کے وقار اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ضروری ہو اور ملک سے شوریدہ سری کی روح کو دور کر کے حقیقی امن کی بنیاد رکھنے والی ہو میں نے مناسب سمجھا کہ میں ان سکھ ، ہندو اور مسلمان لیڈروں اور بار سوخ افراد کو جو اس معاملہ سے دلچسپی رکھتے ہیں ذاتی طور پر مخاطب کر کے ان کی رائے معلوم کرلوں تا کہ اگر کوئی ایسی راہ نکل سکے جس سے بغیر ایسے ذرائع کے اختیار کرنے کے جو مختلف اقوام کے لئے تکلیف دہ ہوں مسلمانوں کو ان کے حقوق بھی مل سکیں اور دوسری اقوام کے لئے بھی کسی ناواجب تکلیف کی صورت پیدا نہ ہو تو اسے اختیار کیا جائے۔ مذبح کے خلاف جن جن اخبارات نے لکھا ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کا اکثر حصہ راستی سے دور اور مبالغہ بلکہ خلاف بیانی سے پر ہے۔ اصل واقعات یہ ہیں :۔ قادیان میرے آباء واجداد کا بنایا ہوا قصبہ ہے اور اس کا اصل نام اسلام پور تھا جس کے