انوارالعلوم (جلد 11) — Page 4
۴ آخر میں قاضی کا لفظ اس وجہ سے زائد کیا جاتا تھا تا یہ ظاہر کیا جائے کہ مغلیہ حکومت کی طرف سے ایک قاضی اس علاقہ کی نگرانی کے لئے رہتا ہے لیکن مرورِ زمانہ سے یہ نام صرف قاضی اور پھر قاضی سے قادی اور قادی سے قادیان بن گیا۔میرے آباء و اجداد تین سو سال تک اس پر اور اس کے علاقہ پر پہلے تو مغلیہ حکومت کی طرف سے اور بعد میں طوائف الملوکی کے زمانہ میں آزادانہ طور پر حکومت کرتے رہے ہیں۔چنانچہ پرانی روایات اور سرلیپل گریفن کی کتاب ’’روسائے پنجاب‘‘ اس امر پر شاہد ہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کی حکومت سے پہلے ہمارے خاندان کی حکومت کے خلاف سکھ قبائل نے حملہ کیا۔اور آہستہ آہستہ ان کے مقبوضات سے جو اسّی (۸۰) دیہات پر مشتمل تھے ، ان کو بے دخل کرتے گئے یہاں تک کہ صرف قادیان ان کے قبضہ میں رہ گیا۔اس سے بھی ان کو بے دخل کرنے کے لئے سکھ قبا ئل پاس کے قصبات میں ایک نیم وائرہ کی صورت میں آباد ہو گئے اور آخر میرے دادا کے والد کے زمانے میں میرے آباء کو قادیان چھوڑنا پڑا لیکن مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں قبائل کا زور ٹوٹنے پر میرے دادا صاحب پھر قادیان میں واپس آگئے اور قادیان اور اس کے ملحقہ سات دیہات پر انہیں دخل مل گیا۔اس کے بعد انگریزی حکومت اس ملک میں آئی تو بر خلاف فوج کے دوسرے افسروں کے میرے دادا صاحب نے انگریزی حکومت سے خفیہ ساز باز نہ کیا اور غالباً اسی وجہ سے ان کے مقبوضہ علاقہ کو گورنمنٹ نے ضبط کر لیا اور لمبے مقدمات کے بعد صرف قادیان کی ملکیت اور اس کے پاس کے تین گاؤں کی ملکیتِ اعلیٰ ہمارے خاندان کو ملی۔میری غرض اس تمید سے یہ ہے کہ قادیان اور اس کے پاس کے اکثر گاؤں اسلامی زمانہ کے آباد شُده ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی بناء پڑی ہے۔پس ان کے ساتھ کوئی ہندو روایات وابستہ نہیں ہیں وہ شروع سے اسلامی روایات کے پابند رہے ہیں اور سوائے سکھوں کی حکومت کے چالیس پچاس سالہ عرصہ کے وہ کبھی بھی اسلامی حقوق کی بجا آوری سے محروم نہیں ہوئے۔اس وقت بھی قادیان کی زرعی زمین کے مالک صرف میں اور میرے بھائی ہیں۔اور محض تھوڑی سی زمین بعض احمدی احباب کے قبضہ میں ہے جنہوں نے وہ زمین ہم ہی سے بغرض آبادی حاصل کی ہے۔ہندو اور سکھ صرف بطور مزارعان یا غیر مالکان آباد ہیں اور وہ بھی نہایت قلیل تعداد میں یعنی بمشکل کل آبادی کا قریباً ساتواں حصہ۔باوجود ان حالات کے اول میرے دادا صاحب نے اور بعد میں میرے والد صاحب