انوارالعلوم (جلد 11) — Page 307
۳۰۷ اقلیتوں کو جو خطرہ پیدا ہوا ہے اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس امر کی تحقیق اس لئے ضروری ہوتی ہے تا اقلیتیں جان بوجھ کر کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے اکثریتیں ان کے خلاف بھڑک اٹھیں اور اس طرح وہ یہ ثابت کرنا چاہیں کہ انہیں اکثریت سے صحیح طور پر خطرہ ہے اور اس وجہ سے وہ خاص حفاظت کی مستحق ہیں- اگر اس اصل کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی قومیت کی روح ملک میں پیدا نہ ہو سکے گی اور بعض خود غرض لوگ اقلیتوں کو بھڑکا بھڑکا کر ملک کے امن کو برباد کرتے رہیں گے- جیسا کہ ٹرکی کی حکومت میں ہوتا رہا ہے کہ پہلے تو بعض حکومتیں ذاتی اغراض کے ماتحت مسیحی اقلیتوں کو جوش دلا کر کوئی شرارت کروا دیتی تھیں پھر جب ترک انہیں سزا دیتے تھے تو وہی حکومتیں بیج میں آ کودتی تھیں کہ اقلیتوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے ان کی حفاظت ہونی چاہئے- اس طرح حفاظتی تدابیر کراتے کراتے ایک دن ان علاقوں کو آزاد کروا دیا گیا- میں گو مسلمانوں کی تائید میں لکھ رہا ہوں لیکن میں یہ کبھی پسند نہیں کروں گا کہ یہی صورت ہندوستان میں پیدا ہو اور کوئی اقلیت خواہ مسلمانوں کی ہی کیوں نہ ہو اپنے جائز حق سے متجاوز ہو کر اکثریت کو جوش دلا دے اور پھر اس امر کا مطالبہ کرنے لگے کہ ہمیں خاص حقوق ملنے چاہئیں تا کہ ہمارے حقوق کی حفاظت ہو- اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک ہندوستان کی اقلیتوں کو جو خطرات ہیں وہ ان کے اپنے پیدا کئے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ان کی ذمہ داری اکثریت پر ہے- مثلاً ملازمتوں کو لے لیا جائے اس بارہ میں کوئی امکان ہی نہیں ہو سکتا کہ مسلمان ہندوؤں کو بھڑکائیں یا تعلیمی درسگاہوں کو لے لیا جائے ان میں جو مسلمانوں کو پیچھے رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے یا بعض عدالتوں تک میں جو مسلمانوں کے حقوق کو تلف کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر بعض ججوں کے فیصلوں کو دیکھا جائے تو یہاں تک نظر آتا ہے کہ ایک ہی قانون اور ایک ہی قسم کے حالات کے ماتحت مسلمان مدعی ہے تو اور فیصلہ ہے اور ہندو مدعی ہے تو اور فیصلہ ہے- یا چھوت چھات کی جاتی ہے یا تجارتی بائیکاٹ جو کیا جاتا ہے باوجود اس کے کہ مسلمان سات سو سال تک ہندوؤں کے ہاتھ کا کھاتے رہے ہیں اور ان سے سودے خریدتے رہے ہیں- اس ایذا دہی کی کوئی وجہ مسلمانوں کی طرف سے پیدا نہیں ہوئی- ذبح گائے پر جو شور کیا جاتا ہے اسے بھی جائز نہیں کہا جا سکتا کیونکہ گائے کا ذبح کرنا یا کھانا مسلمانوں کا ذاتی فعل ہے- اس سے ہندوؤں کو کوئی تعلق نہیں