انوارالعلوم (جلد 11) — Page 300
۳۰۰ گے- (۷) ان کی عبادتوں کو بدلائیں گے- (۸) گائے کے ذبیحہ کو بزور شمشیر روک دیں گے- (۹) تبلیغ کو ناجائز کر دیں گے- (۱۰) اگر کوئی ہندو اقلیت کے مذہب کو قبول کرنے لگے گا تو ہندو اس سے روکیں گے لیکن اگر وہ باز نہ آیا تو ہندو کٹ کر مر جائیں گے- (۱۱) افغانستان اور سرحد کو فتح کر کے انہیں شدھ کر لیا جائے گا- (۱۲) مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کر دیا جائے گا- (۱۳) مسلمانوں کے اسلامی نام تک بدل دیئے جائیں گے- (۱۴) جو لوگ ہندو زبان، ہندو مذہب اور ہندو تہذیب اور ہندو تہوار اختیار کرنے کو تیار نہ ہوں گے انہیں ہندوستان سے نکال دیا جائے گا- (۱۵) اگر کوئی شخص خواہ مہاتما گاندھی ہی کیوں نہ ہوں اسلام اور مسلمانوں سے نرمی کی تعلیم دے گا تو اس کا بھی ہندو بائیکاٹ کر دیں گے- یہ ارادے ہیں جو سوراج کے قیام پر ہندو مسلمانوں کے متعلق خصوصاً اور دوسری اقلیتوں کے متعلق عموماً رکھتے ہیں- جو ان کا موجودہ سلوک ہے اس کا ذکر پہلے کر آیا ہوں- کیا ان کی موجودگی میں کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ اقلیتوں کو اپنے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے یا یہ کہ ایسا مطالبہ ڈیماکریسی (DEMOCRACY)کے اصول کے خلاف ہے- کیا اس قدر سخت سلوک اور اس قدر خطرناک ارادوں کی موجودگی میں دنیا کی کسی اور اقلیت نے بھی اس قدر نرم مطالبے کیے ہیں جس قدر کہ مسلمانوں کی طرف سے پیش ہوتے ہیں؟ میں اس جگہ یہ امر بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گز یہ نہیں سمجھتا کہ سب کے سب ہندو مذکورہ بالا خیالات میں مبتلا ہیں- ان میں یقیناً ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان خیالات کو اسی طرح حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے جس طرح اقلیتوں کے لوگ- چنانچہ بعض ہندوصاحبان نے ان خیالات کے خلاف اظہار نفرت کیا بھی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ طبقہ بہت تھوڑا اور دوسرے گروہ کے مقابلہ میں کم اثر رکھنے والا ہے- ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایک دن ایسا آ جائے کہ ہندوؤں کے دل سے تعصب اور کینہ نکل جائے اور وہ اپنے اس مرض سے صحت پا جائیں جس کی وجہ سے اپنی قوم کے سوا ہر قوم انہیں گردن زدنی نظر آتی ہے- لیکن جب تک وہ دن آئے اس وقت تک نہایت ضروری ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت کا کوئی سامان ہو-