انوارالعلوم (جلد 11) — Page 301
۳۰۱ باب ششم اقلیتوں کی حفاظت کی تدابیر کے اصول سائمن کمیشن نے اس اختلاف کو تسلیم کیا ہے جو اکثریت اور اقلیت میں ہے لیکن بوجہ غیرملکی ہونے کے وہ لوگ اس کی پوری کیفیت کو معلوم نہیں کر سکے اور اسی وجہ سے وہ اس کا صحیح علاج تجویز کرنے سے قاصر رہے ہیں- انہوں نے اختصار کے ساتھ ہندو مسلمانوں کو جھگڑے کا جو گائے اور باجہ کے متعلق ہوتا ہے ذکر کیا ہے لیکن وہ یہ معلوم نہیں کر سکے کہ یہاں صرف گائے کا سوال نہیں بلکہ اس اقتصادی اور تمدنی بائیکاٹ کا سوال ہے جو عرصہ دراز سے ہندومسلمانوں کا کرتے چلے آئے ہیں- کمیشن کو اس اختلاف کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی کیونکہ اس کے اہم فرائض میں سے ایک یہ فرض بھی تھا کہ وہ ایسے قوانین تجویز کرے جو اس اختلاف کے برے نتیجوں سے دونوں قوموں کو محفوظ رکھیں- لیکن جب تک اختلاف کی حقیقت اور اس کی گہرائی کو اہل کمیشن معلوم نہ کرتے وہ علاج کس طرح تجویز کر سکتے تھے- انہوں نے صرف گائے اور باجے کے سوال کو لے لیا اور اس پر غور نہیں کیا کہ گائے کا سوال ہندو سنگھٹن کی تدابیر میں سے ایک تدبیر ہے اور یہ کہ اس سوال نے موجودہ صورت صرف اسلامی حکومت کے آخری ایام میں اختیار کی ہے بلکہ اب تک بھی بعض ہندو اقوام ہندوستان میں ایسی موجود ہیں جو گائے کا گوشت کھا لیتی ہیں گو اس سیاسی ایجی ٹیشن کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہوتی چلی جا رہی ہے- کمیشن کو اس منظم بائیکاٹ کی حقیقت کو معلوم کرنا چاہئے تھا جو مسلمانوں کا ہر شعبہ زندگی میں کیا جا رہا ہے- کیا تجارت اور کیا تمدن اور کیا ملازمت اور کیا اقتصادیات ایک بھی تو شعبہ ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کو مذہب یا حفظان صحت یا اقتصاد کے نام سے نقصان نہیں پہنچایا جاتا- پس اصل غرض سیاسی برتری کا حصول ہے- گائے کے سوال کو ہی لے لو- اگر تو صرف