انوارالعلوم (جلد 11) — Page 296
۲۹۶ بھارتورش سے باہر کر دینا چاہتا ہوں’‘- اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ہندو سوراج میں مسلمانوں سے یہ سلوک کرنا چاہتے ہیں کہ ان سے ان کا مذہب، ان کا تمدن اور ان کی زبان اور ان کے نام تک چُھڑوانا چاہتے ہیں- شاید کوئی کہے کہ ستیہ دیو گو کتنے ہی بڑے آدمی ہوں لیکن ہندو قوم کے چوٹی کے لیڈر نہیں اس لئے میں چند چوٹی کے لیڈروں کے حوالہ جات نقل کرتا ہوں- ڈاکٹر مونجے جو راؤنڈٹیبل کانفرنس (ROUND TABLE CONFERENCE) کے نمائندے مقرر ہوئے ہیں- ہندوؤں کو یوں نصیحت کرتے ہیں- ‘’ہندو اگر سنگھٹ ہو جائیں تو انگریزوں اور ان کے مسلمان پٹھوؤں کو کسی دوسرے کی مدد کے بغیر نیچا دکھا کر سوراج حاصل کر سکتے ہیں- مسٹر جناح کی تجاویز فورٹین ڈیمانڈز آف مسلمز (FOURTEEN DEMONDS OF MUSLIMS) منتقمانہ مقابلہ کی دھمکی دے رہی ہیں جن کی ہندوؤں کو کچھ پرواہ نہیں- ہندوؤں کو یہ پرانا خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ مسلمانوں کی مدد کے بغیر سوراج حاصل ہونا محال ہے’‘- ڈاکٹر مونجے صاف لفظوں میں ظاہر کر رہے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں ہیں- وہ اپنے زور سے انگریزوں اور مسلمانوں دونوں کو درست کر کے رکھ دیں گے اور مسلمانوں سے کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہونگے- جن لوگوں کا شروع میں یہ حال ہے ان کا انجام کیا ہوگا؟ ایک اور ہندو لیڈر لالہ ہردیال ایم- اے جن سے یورپ و امریکہ کے لوگ خوب واقف ہیں لکھتے ہیں- ‘’جب انگلستان کچھ عرصہ بعد ہوم رول (HOME RULE) یعنی ۷۵فیصدی سوراجیہ ہمیں پیش کرے تو وہ ہندو قومی دل کے ساتھ عہدوپیمانکرے’‘- ۲۴؎ پھر یہی صاحب لکھتے ہیں-: ‘’ہندو سنگھٹن کا آدرش یہ ہے کہ ہندو قومی سنتھاؤں انسٹی چیوشنز (INSUITUTIONS( کی بنیادوں پر ہندو قومی ریاست قائم کی جائے- ہندو قومی