انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 258

۲۵۸ ‘’بڑھنے والی’‘ کا لفظ کوئی حد نہیں رکھتا سوائے اس حد کے جو طبعی ہے یعنی جب کہ تعداد پوری ہو جائے- پس اس لفظ کے استعمال کرنے کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ ہندوستانیوں کو سب قسم کی ملازمتوں میں متواتر بڑھنے والا حصہ دیا جائے گا یہاں تک کہ سب ملازمتیں ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائیں گی- جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ ایگزیکٹو (EXECUTIVE)پورے طور پر ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آ جائیں گی- دوسرا قابل توجہ جملہ ‘’خود مختار محکموں کے تدریجی نشوونما’‘ کا ہے- اس میں ‘’خود مختار محکموں’‘ سے مراد یقیناً میونسپل کمیٹیاں، ڈسٹرکٹس بورڈز اور صوبہ جاتی حکومتیں ہیں- ڈسٹرکٹ بورڈ اور میونسپل کمیٹیاں بھی خود مختار محکمے نہیں کہلا سکتے جب تک کہ صوبہ جاتی حکومتیں ان پر حاکم نہ ہوں اور وہ خود مختار نہ ہوں کیونکہ لوکل بورڈ، بالا حکومت سے آزاد ہو کر کام نہیں کر سکتا- اور کوئی میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈ خود مختارانہ حکومت کرنے والا نہیں کہلا سکتا جب تک کہ جس حکومت سے اسے احکام ملتے ہوں اس کا قیام اس کے ووٹروں کی مرضی کے مطابق نہ ہو- پس میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈوں کا خود مختار ہونا صوبہ جاتی حکومت کے خود مختار ہونے پر منحصر ہے- اور اس فقرہ میں یقیناً انہی تین حﷺ حکومت کا ذکر ہے- پس دوسرے لفظوں میں اس جملہ میں صوبہ جات کی آزادی کا وعدہ ہے- تیسرا قابل توجہ جملہ وہ ہے جس میں اوپر کی پالیسی کا آخری نتیجہ بیان کیا گیا ہے یعنی ‘’اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آخر برطانوی ہند میں ایک ایسی خود مختار حکومت بتدریج قائم ہو جائے جو برطانوی شہنشاہی کا جزو ہو’‘- اس جملہ میں بتایا گیا ہے کہ اوپر کی دونوں تجویزوں کی غرض یہ ہے کہ برطانوی ہند میں نیابتی حکومت تو قائم ہو جائے لیکن وہ برطانوی شہنشاہیت کا حصہ رہے باہر نہ نکل جائے- اس جملہ کے صاف لفظوں میں معنی یہ ہیں کہ پارلیمنٹ نے اس آخری حد تک ہندوستان کو خود مختار حکومت دینے کا وعدہ کیا تھا کہ اگر اس سے زیادہ حق دیا جائے تو ہندوستان برطانوی ایمپائر (EMPIRE) کا حصہ رہ ہی نہیں سکتا- اور یہی چیز ہے جس کا دوسرا نام ‘’ڈومینین سٹیٹس’‘ (DOMINION STATUS)ہے- ڈومینین سٹیٹس اور کامل آزادی میں صرف ایک قدم کا فرق ہے وہ قدم اگر کوئی ڈومینین اٹھائے تو وہ برطانوی ایمپائر کا حصہ نہیں رہتی- اور چونکہ اس حد تک پہنچی ہوئی خود مختار حکومت کا ہندوستان سے وعدہ کیا گیا ہے اس لئے یہ کہنا کہ اس