انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 256

۲۵۶ دوسرے حصے سے پیوست ہونے کے اس جبر یا مصلحت سے مطابقت رکھے گا جس کے اثر کے نیچے اس کا تصفیہ ہوا تھا اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی سکیم ملک کے لئے کس قدر خطرناک ہوگی؟ پس میرے نزدیک بہتر ہوگا کہ اصل مضمون کے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے اسے قریبالفہم بنانے کے لئے اس سوال کو اپنے علم کے مطابق حل کرنے کی کوشش کروں کہ کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے اور اگر ہے تو کس حد تک؟ اور اس غرض کے لئے پہلے میں اس سوال کے پہلے حصہ کو لیتا ہوں- کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے اس سوال کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے- مذہبی طور پر، اخلاقی طور پر اور سیاسی طور پر- مذہبی سوال سب سے مقدم ہے لیکن چونکہ انگلستان اور ہندوستان اور خود ہندوستان کی مختلف اقوام کا مذہب ایک نہیں اس لئے مذہب کی رو سے بحث اس سوال کے حل کرنے میں مدد نہیں دے سکتی- پس میں اسے چھوڑ کر اخلاقی پہلو کو لیتا ہوں- ۲۰- اگست ۱۹۱۷ء کو مسٹر مانٹیگو MONTAGUE(۔(MR نے ہاؤس آف کامنز میں جو تقریر کی- اس میں ہندوستان کے آئندہ نظام حکومت کے متعلق ایک یہ فقرہ بھی تھا کہ-: ‘’حضور ملک معظم کی حکومت کی پالیسی جس کے ساتھ حکومت ہند کو بھی پورے طور پر اتفاق ہے یہ ہے کہ انتظام مملکت کے ہر شعبہ میں ہندوستانیوں کو بتدریج بڑھنے والا حصہ دیا جائے اور آہستہ آہستہ آزاد محکمے قائم کر دیئے جائیں تا کہ ترقی کرتے کرتے ہندوستان میں برطانوی تاج کے ماتحت ایک آزاد نیابتی حکومت قائم ہو جائے’‘- اس کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کی تمہید میں اسی فقرہ کو لفظ بلفظ نقل کر کے برطانوی پارلیمنٹ بھی اس میں ظاہر کردہ خیالات سے اپنا اتفاق ظاہر کر چکی ہے- یہ بیان کرنا بے محل نہ ہوگا کہ مسٹر مانٹیگو MONTAGUE(۔(MR کا اعلان ان کا اپنا ذاتی اعلان نہ تھا بلکہ برطانوی وزارت کا تسلیم شدہ اعلان تھا اور سائمن رپورٹ سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلان میں(RESPONSIBLE GOVERNMENT) کے الفاظ لارڈکرزن (LORD CURZON) کے قلم سے لکھے ہوئے اب تک موجود ہیں- پس اس اعلان سے حکومت ہند کے علاوہ جس کی رضا مندی صاف لفظوں میں ظاہر ہے