انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 240

۲۴۰ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت غرض بہترین نظام جسے اگر صحیح طور پر چلایا جائے تو تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے امارت کا انتظام ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے مقامی انتظام اور مرکز کی ضرورتیں دونوں پوری ہوتی رہتی ہیں- امیر خلیفہ کا نمائندہ ہے امیر کے لئے ہر گز یہ شرط نہیں کہ وہ اسی ملک کا باشندہ ہو- اسلام کے شروع زمانہ میں نوے فیصدی امراء مرکز سے مقرر ہو کر جاتے تھے اور اب بھی ضرورت پر ایسا کیا جا سکتا ہے- چونکہ ہمارے پاس روپیہ نہیں کہ ہم تنخواہیں دے سکیں اس لئے ہم ایسا نہیں کرتے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ضرورت پر ایسا نہ کیا جائے- ہاں یہ ضروری ہے کہ امراء کے تقرر کے وقت مقامی لوگوں کے احساسات کا خیال رکھ لیا جایا کرے- پس اگر مقامی جماعت کے مشورہ کے بعد اور یہ دیکھ کر کہ مقرر کردہ امیر پر انہیں کوئی خاص اعتراض نہیں ہے باہر سے بھی امیر مقرر کیا جائے تو اس میں اسلامی نکتہ نگاہ سے کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے- گو میرا طریق عمل یہ ہے کہ مقامی لوگوں میں سے ہی امیر مقرر کرتا ہوں- اور میری انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ امیر لوگوں کی رائے کے مطابق ہی مقرر کیا جائے مگر اس امر کو بہرحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امیر پبلک کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ خلیفہوقت کا نمائندہ ہے- اس لئے خواہ لوگ کتنا بھی اصرار کریں یہ عہدہ درحقیقت خلیفہوقت کا اعتماد رکھنے والے شخص کو مل سکتا ہے اور اس میں وہی حکمت ہے کہ اسلامی نظام اتحاد عالم پر مبنی ہے نہ کہ قومیت پر- خلیفہ کے انتخاب کے ذریعہ سے جمہور کی رائے کو ظاہر کرنے کا موقع دے دیا جاتا ہے اور پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ تمام عالم اسلام ایک سلک میں منسلک رہے اور قومیت کا سوال پیدا ہو کر اس میں رخنہ اندازی نہ کرے- احمدی یاد رکھیں یہ اصول ہیں جن پر سلسلہ کا آئندہ نظام چلایا جائے گا اور سب صوبوں اور ملکوں کے احمدیوں کو انہیں یاد رکھنا چاہئے تا وہ دھوکا نہ کھائیں اور انہیں کوئی دوسرا شخص دھوکا نہ دے سکے- بنگال کا سوال اصولی بحث کے بعد میں بنگال کے سوال کو لیتا ہوں- جہاں تک میں نے غور کیا ہے میرے نزدیک کلکتہ چونکہ اس وقت بنگال کا سیاسی مرکز ہے ہمارے کام تبھی سہولت سے چل سکتے ہیں کہ اسی کو ہم اپنا مذہبی مرکز قرار دیں- اگر ہمارے لئے ممکن ہوتا کہ ہم پورے وقت کا امیر مقرر کر سکتے اور اس کے ساتھ عملہ بھی پورے وقت کا دے سکتے