انوارالعلوم (جلد 11) — Page 237
۲۳۷ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت ۱۰-مرکز براہمن بڑیہ ہو- ۱۱-مقامی امیر کا مرکز جب وہ صوبہ کا امیر مقرر ہو صوبہ کا مرکز ہو- ۱۲-کسی صوبہ کے امیر کی ضرورت نہیں- ہر اک انجمن براہ راست قادیان سے تعلق رکھے اور اگر ضرور ہی صوبہ کا امیر مقرر کیا جائے تو اس کے اختیارات اور صوبہ کی انجمن کے اختیارات مقامی جماعتوں سے محدود ہوں اور پھر بھی بعض امور میں ان کا تعلق قادیان سے براہ راست رہے- ضروری امور ان سب آراء پر غور کرنے کے بعد اور ان اصول پر غور کرنے کے بعد جو میرے نزدیک اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی طرف سے نظام جماعت کے چلانے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں میں بعض ایسے امور کا بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو اصولی طور پر بنگال اور دوسرے ممالک یا صوبہ جات کے انتظام میں ممد ہونگے اور جن پر میرے آئندہ فیصلہ کی بنیاد ہوگی- سلسلہ کے مالی کام کا انتظام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور احکام سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ کا مالی کام براہ راست ایک شخص کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ انجمن کے ذریعہ سے- یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقرر ایگزیکٹو کے قیام کو ضروری قرار دیتے ہیں- یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام اور آپ کی تحریرات سے ثابت ہے کہ آپ اس ایگزیکٹو کو تمام دنیا کی جماعت کے لئے نقطئہ اتحادی قرار دیتے ہیں اور پھر یہ بھی آپ کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اس انجمن کے لئے قادیان کا مرکز رہنا ضروری قرار دیتے ہیں لیکن مختلف ممالک کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر اس انجمن کی آمد کا ایک حصہ مقامی صوبوں یا ملکوں کے سپرد کیا جا سکتا ہے- خلافت سے وابستگی کی ضرورت دوسری طرف آپ کی تحریرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس جماعت کی ترقی خلافت سے وابستگی کے ساتھ مشروط رکھتے ہیں- خلیفہ کو واجب الاطاعت قرار دیتے ہیں اور اس کے وجود کو خدا تعالیٰ کے فضل کا نشان اور ذریعہ فرماتے ہیں جس کے فقدان کے ساتھ سلسلہ کی برکات بھی ختم ہو جائیں گی اور اس سے بغاوت کو شقاوت اور طُغیانی قرار دیتے ہیں-