انوارالعلوم (جلد 11) — Page 238
۲۳۸ امیر جماعت اور منصب امارت کی حقیقت خلافت کیلئے مشورہ کی ضرورت تیسری طرف اسلام سے یہ امر بوضاحت ثابت ہے کہ کوئی خلافت بغیر مشورہ کے نہیں چل سکتی اور یہ کہ جہاں تک ہو خلیفہ کو کثرت رائے کا احترام کرنا چاہئے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے- سوائے اس صورت کے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کی خلاف ورزی کثرت رائے میں پائے- یا اسلام کو کوئی واضح نقصان پہنچتا دیکھے یا مشورہ کو جماعت کی کثرت رائے کا آئینہ نہ سمجھے- وغیرہ وغیرہ- مجلس عاملہ کی حیثیت ان تینوں امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک خلیفہ کو سب کام اپنے ہاتھ سے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ایک مجلس عاملہ کے ذریعہ سے کرنے چاہئیں تا کہ اس کی رائے میں کوئی خاص تعصب نہ پیدا ہو جائے- وہ مجلس عاملہ اپنے دائرہ عمل میں سب دنیا کی جماعتوں کے لئے واجب الاطاعت ہونی چاہئے- خلیفہ کو جماعت سے مشورہ لے کر اپنی پالیسی کو طے کرنا چاہئے اور اس مشورہ کا انتہائی حد تک لحاظ کرنا چاہئے اور اس سے یہ امر خودبخود نکل آیا کہ جب جماعت کے مشورہ سے کوئی امور طے ہوں تو مجلس عاملہ اس کی پابند ہو-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہترین نظام جب قادیان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجلس عاملہ کا مرکز قرار دیا ہے تو بدرجہ اولیٰ خلیفہ اور مجلس شوریٰ کے لئے اس مرکز کی پابندی ضروری ہے- حقیقت یہ ہے کہ اس سے بہتر نظام کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا- اس نظام میں بغیر کسی حصہ ملک کو تکلیف میں ڈالنے کے ترقی کی بے انتہاء گنجائش ہے اور باوجود مختلف صوبہ جات کی مخصوص ضرورتوں کو پورا کرنے کے قومیت کے تنگ بندھنوں سے نکالنے کی بھی پوری صورت موجود ہے- خلیفہ کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس ملک کا باشندہ ہو- انجمن عاملہ کیلئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس ملک کے باشندوں سے چنی جائے- مجلس شوریٰ اپنی بناوٹ کے لحاظ سے لازماً سب دنیا کی طرف سے چنی جانی چاہئے اور چونکہ بیشتر حصہ اصولی تجاویز کا ایسی مجلس کے ہاتھوں سے گزرنا ہے اس وجہ سے ہر ملک اور قوم کے افراد کو سلسلہ کے کام میں اپنی رائے دینے کا موقع ہوگا اور یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ مسیحی پاپائیت کی طرح کسی خاص قوم کے ہاتھ میں سلسلہ