انوارالعلوم (جلد 11) — Page 223
انوار العلوم جلدا ٣٢٣ عرفات الهی اور محبت باللہ کا عالی مرتبہ چوتھی بات یہ فرمائی کہ وہ صحیح راہنما محمد رسول اللہ ہیں۔ اس کا اشارہ "نی" میں کیا گیا ہے کہ میری اتباع کرو تب خدا ملے گا۔ پانچویں بات یہ بتائی يُحْبِبْكُمُ الله کہ انسان اللہ کا محبوب ہو جائے گا۔ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کا پیدا ہونا کا پیدا ہونا اور بات ہے لیکن جب تک خدا کی محبت انسان کی محبت کے جواب میں نہ اترے وہ عارف نہیں کہلا سکتا۔ خواہ اس کے دل میں خدا تعالی کی کتنی محبت ہو ۔ کیونکہ محبوب کامل جانا اس کی محبت کی علامت ہوتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ ایسے بندوں کو مل جاتا اور ان سے ایسا سلوک کرتا ہے جیسا اپنے مقرب سے کیا جاتا ہے۔ اس طرح بندہ کو اللہ تعالٰی سے اپنی محبت کے صحیح ہونے کا علم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ محبت نہیں کرتا اور مقربین جیسا سلوک نہیں کرتا تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہمارے دل میں بھی خدا کی بچی محبت نہیں ہے۔ بھلا یہ کبھی ممکن ہے کہ دو دلوں میں بچی محبت بھی ہو اور ان کے ملنے میں کوئی روک بھی نہ ہو اور پھر وہ آپس میں نہ ملیں۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان میں خدا تعالیٰ کی سچی محبت ہو ۔ جس کے پیدا ہونے پر خدا تعالیٰ بھی اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ اسے نہ ملے ۔ جب خدا تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے اور اس میں یہ طاقت بھی ہے کہ اپنے بندہ تک آسکے تو پھر نا ممکن ہے کہ وہ نہ آئے۔ اسی محبت کا نام عرفان ہے جس کے بعد خدا تعالیٰ مل جاتا ہے اور انسان اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ رسول کریم ملی ایم کو کیسا عرفان حاصل تھا۔ پہلا عرفان یہ ہے کہ اپنی ذات میں انسان خدا تعالیٰ کو دیکھے ۔ یہ سب سے کامل عرفان ہے گو اس کے بھی آگے بڑے بڑے درجے ہیں۔ رسول کریم ملی ایم کو خدا تعالیٰ نے جو عرفان دیا تھا اس کی ایک مثال بتاتا ہوں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی پہچان کیسی حاصل حاص تھی۔ جب مکہ کے لوگوں نے رسول کریم میں تعلیم پر انتہا درجہ پر انتہا درجہ کے مظالم شروع کر دیئے اور ان ان کی وجہ سے دین کی اشاعت میں روک پیدا ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ نے آپ کو حکم دیا کہ مکہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی مکہ چھوڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔ اس سے پہلے کئی دفعہ انہیں جانے کے لئے کہا گیا مگر آپ رسول کریم میں اللہ کو چھوڑ کر جانے کے ۔ جب رسول کریم میں مر جانے لگے تو حضرت ابو بکر کو بھی آپ نے ساتھ لے لیا۔ جب آپ رات کے وقت روانہ ہوئے تو ایک جگہ جو میں نے بھی دیکھی ہے۔ پہاڑ میں معمولی سی غار نے کے لئے تیار : ار نہ ہوئے۔