انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 204

۲۰۴ نسخے نہ تھے- بلکہ کسی جاہل نو آموز کی طرز تحریر کی غلطیاں تھیں اور اس کو غلطی نہیں کہتے- غلطی وہ ہوتی ہے جسے قوم صحیح تسلیم کر کے دھوکے میں آ جائے- اس قسم کے نسخوں کی تلاش کسی قدیم زمانہ میں کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے لئے تو آسان راہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کی خراب چھپی ہوئی کتاب میں سے غلط آیات نکال کر کہہ دیا جائے کہ دیکھو قرآن کریم میں اختلاف ہے- چنانچہ ایک پادری سیالکوٹ میں ایسا تھا بھی جو مختلف نسخے قرآن کریم کے اپنے پاس رکھتا تھا اور جو کوئی غلطی اسے ملتی اس پر نشان لگا لیا کرتا تھا- پھر جو مسلمان اسے ملتا اسے دکھاتا تھا کہ تم تو کہتے ہو کہ قرآن کریم محفوظ ہے حالانکہ اس قرآن میں یہ لفظ یوں لکھا ہے اور اس دوسرے میں یوں لکھا ہے- اس کا دماغ اس طرح نہیں کیا کہ ایک توتلے آدمی کو نوکر رکھ چھوڑتا اور اس سے قرآن پڑھوا کر سنواتا اور کہتا کہ دیکھو قرآن کریم میں تغیر ہو سکتا ہے اس نادان نے یہ نہیں سوچا کہ غلطی وہ ہوتی ہے جس سے قوم دھوکا کھا جائے- ورنہ وہ بھول چوک جس کو خود لکھنے والا بھی دوبارہ پڑھنے سے معلوم کر لے کہ یہ غلطی تھی حفاظت کے خلاف نہیں- اس کی حفاظت تو آسانی دماغ میں اور دوسرے نسخوں میں موجود ہے اور اس سے کوئی نقصان عقیدہ یا تفسیر کو نہیں پہنچتا کیونکہ اس غلطی کی بناء پر کوئی شخص ترجمہ یا تفسیر غلط نہیں کر سکتا- قرآن کریم کو اس بارے میں جو حفاظت حاصل ہے اس کے متعلق میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا- میں صرف ان لوگوں کی شہادت پیش کرتا ہوں کہ جو پکے مسیحی ہیں اور جنہوں نے پورا زور لگایا ہے کہ کسی طرح قرآن کریم کی حفاظت پر وہ کوئی اعتراض کر سکیں- لیکن آخر مجبور ہو کر ان کو ماننا پڑا ہے کہ سب اعتراض فضول اور لغو ہیں قرآن کریم آج بھی اسی طرح محفوظ ہے جس طرح کہ اس وقت محفوظ تھا جب رسول کریم ﷺ دنیا سے جدا ہوئے تھے- سرولیم میور کی شہادت سرولیم میور اپنی کتاب ‘’دی کران’‘ (القرآن) میں لکھتے ہیں-: ‘’زید کا نظر ثانی کیا ہوا قرآن آج تک بغیر کسی تبدیلی کے موجود ہے- اس احتیاط سے اس کی نقل کی گئی ہے کہ تمام اسلامی دنیا میں صرف ایک ہی نسخہ قرآن کا استعمال کیا جاتا ہے’‘-۳؎ ‘’جو اختلاف قرآن کریم کے نسخوں میں نظر آتا ہے وہ قریباً سب کا سب