انوارالعلوم (جلد 11) — Page 182
۱۸۲ ‘’بایں شرط کہ یہ سوال اس عرصے کے گذرنے کے بعد پھر زیر غور آ سکتا ہے اگر کوئی قوم اس کا مطالبہ کرے’‘- یہ زیادتی بھی بالکل بے معنی ہے- ‘’زیر غور آ سکتا ہے’‘ میں کوئی معین پالیسی ظاہر نہیں ہوتی- اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس اقلیت کو محفوظ نسشتوں کا زیادہ تر حق دیا گیا ہے وہ مسلمان ہی ہیں- اگر یہ قانون مفید ہے تو یہ صاف بات ہے کہ مسلمان اس کے تغیر کا مطالبہ نہیں کریں گے- جب بھی اس تغیر کا مطالبہ کریں گے ہندو ہی کریں گے- ان حالات میں دوسرے الفاظ میں زیادتی یوں کی گئی ہے کہ اگر دس سال کے گزرنے کے بعد ہندو لوگ یہ مطالبہ کریں گے کہ مسلمانوں کو یہ حق نہیں ملنا چاہئے تو اس سوال پر دوبارہ غور کیا جائے گا- یہ بات تو ظاہر ہے کہ یہ غور مرکزی حکومت میں ہی ہوگا جہاں ہندو اکثریت ہوگی- پس وہ فیصلہ جو مرکزی حکومت کرے گی اس کا بھی ابھی سے قیاس کیا جا سکتا ہے- اس مختصر تنقید کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو تغیرات نہرو کمیٹی نے تجویز کئے ہیں ان میں فائدے کی باتیں بہت کم اور نقصان کی باتیں بہت زیادہ ہیں- اگر کوئی بات میں اس کمیٹی کے حق میں کہہ سکتا ہوں تو صرف یہ کہ یہ کمیٹی ایسے الفاظ کے استعمال کرنے میں بڑی ماہر ہے جو ظاہر میں اور معنی رکھتے ہوں اور باطل میں اور، مگر یہ توصیف قابل تعریف توصیف نہیں- مسلمانوں اور انگریزوں سے اپیل آخر میں میں پھر مسلمان پبلک اور اپنے ماورائالبحر کے رہنے والے انگریز بھائیوں سے یہ اپیل کروں گا کہ وہ اس رپورٹ کو سمجھے بغیر اس کی تائید نہ کریں- انگریزوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی قوم بے شک اس وقت ہندوستان کی حاکم ہے لیکن وہ اس کی مالک نہیں ہے وہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے ہندوؤں کاغلام بنا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتے- وہ قوم جو غلامی کو مٹانے کے لئے اس قدر دعویدار ہے وہ آئندہ نسلوں کی نظر سے ہمیشہ کے لئے گر جائے گی- اگر وہ اس آزادی کے زمانے میں آٹھ کروڑ مسلمانوں کو ایک قلم کی جنبش سے ایک ایسی قوم کا غلام بنانے کا فیصلہ کر دے گی جس نے اپنے غلاموں کے ساتھ دنیا کی تمام اقوام سے بدتر سلوک کیا ہے- ہر ایک قوم کے غلام تھوڑے یا زیادہ عرصہ میں آزاد ہوگئے ہیں- لیکن ہندووں کے غلام ہزاروں سال کے گزرنے کے بعد آج بھی اچھوت اقوام کے نام سے ہندووں کے ظالمانہ دستور غلامی پر شہادت دے رہے ہیں- انگلستان کو یاد رکھنا چاہے کہ جس وقت وہ