انوارالعلوم (جلد 11) — Page 173
انوار العلوم جلد ۱۷۳ ندائے ایمان (1) بڑھتے چلے جاتے تھے اور ہر طرح کوشاں تھے کہ آپ کو جھوٹا ثابت کریں لیکن خدا کی باتوں کو کون ٹال سکتا تھا۔ باوجود ان سب مخالفانہ تدابیر کے جو آپ کے مخالفوں نے آپ کے خلاف استعمال کیں آپ کی صداقت لوگوں پر ظاہر ہونی شروع ہوئی اور روحانی مُردے آپ کے ہاتھوں سے زندہ ہونے لگے ۔ اور وہ جو پہلے بھرے تھے اب سننے لگے اور جو پہلے اندھے تھے اب دیکھنے لگے اور جو پہلے روحانی کوڑھ میں مبتلا تھے اب ان کے جسم چاند کی طرح منور نظر آنے لگے اور ایک یہاں سے اور ایک وہاں سے اور ایک قریب سے اور ایک دور سے خدا کی قرناء کی آواز سن کر دوڑ پڑا یہاں تک کہ آہستہ آہستہ بالکل اسی طرح جس طرح کہ قدیم سے خدا کے نبیوں سے ہوتا چلا آیا ہے ایک جماعت اس خدا کے بہادر کے گرد جمع ہو گئی اور اسلام کا سپہ سالار اور محمد رسول اللہ صلی اللہ کا جاں نثار اپنے فدائیوں کے جھرمٹ میں ایک جوان رعنا دولہا کی طرح اسلام کی حفاظت کے لئے آگے بڑھا۔ اور تم نے بھی دیکھا اور باقی دنیا نے بھی دیکھ لیا کہ وہی جسے کافر و زندیق کہا جاتا تھا اسلام کا علمبردار ثابت ہوا۔ اور وہی جسے اسلام کا دشمن کہا جاتا تھا اس کی حفاظت کا واحد ذمہ دار نظر آیا ۔ جب عالم کہلانے والے اور تصوف کا دم بھرنے والے اپنی روٹیوں کی فکر میں اور اپنے آرام و آسائش کی جستجو میں تھے وہ اور اس کے ساتھی اسلام کی فکر میں اور اس کے دشمنوں کے مقابلہ میں مشغول تھے۔ نہ معلوم اس نے اپنے پر ایمان لانے والوں کے دلوں میں کیا جادو پھونک دیا تھا کہ اسلام کی خدمت کے سوا اور رسول کریم مسلم کی شان کے بلند کرنے کے سوا ان کو اور کسی بات میں مزا ہی نہیں آتا تھا حتی کہ وہ دن آگیا جب اسلام کو اس کی پوری شان کے ساتھ قائم کر کے اور اس کے جاں شاروں کی ایک جماعت بنا کر وہ خدا کا پیارا اپنے پیارے سے جاملا اور اس کے دشمن جو اس کی تباہی کی خواہیں دیکھ رہے تھے منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے ۔ مگر اب بھی ایک امید پر ان کا سہارا تھا اور وہ یہ کہ شاید اس کے مرنے کے بعد اس کا کام تباہ ہو جائے گا اور اس کی جماعت جو اس کی لسانی اور اس کی جادو بیانی کی وجہ سے اس کے گرد جمع ہو گئی تھی اب پراگندہ ہو جائے گی لیکن زمانہ نے ظاہر کر دیا کہ یہ خیال بھی ایک فریب سے زیادہ حقیقت نہ رکھتا تھا۔ جس طرح ایک مضبوط درخت روز بروز جڑیں پکڑتا جاتا ہے اس کی جماعت بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔ اور اسلام کی محبت رکھنے والے دل اور اس کی نیکی چاہنے والے دماغ اس زمانہ کے موعود کی عقیدت کی مہمان نوازی کے لئے اپنے دروازے کھول دیں گے تاکہ اسلام کے غلبہ پانے کا زمانہ جلد سے جلد آئے اور کفر ایک