انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 172

۱۷۲ ایک دوسرے کی پیٹھ ٹھونکنے والے بن گئے- زمین جور اور ظلم سے بھر گئی اور آسمان انسان کی تعدی اور دست درازی کے قصے دیکھ کر تاریک ہو گیا اور تاریکی کے فرزندوں نے خیال کر لیا کہ وہ اس شمع کو جسے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جلایا تھا بجھانے میں جلد کامیاب ہو جائیں گے لیکن باوجود تمام مذاہب کی متفقہ کوششوں کے اور حالات کی نامساعدت کے آپ ہر قسم کے گزند سے محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدم کو استوار اور مضبوط رکھا- جس وقت آپ کے ہم قوموں اور ہم مذہبوں اور رشتہ داروں اور عزیزوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اس وقت خدا تعالیٰ جو تمام وفاداروں سے بڑھ کر وفا دار اور تمام دوستوں سے بڑھ کر دوست ہے آپ سے پہلے کی نسبت بھی زیادہ پیار کرنے گا- اور اس کی مصفی وحی بارش کی طرح آپ پر نازل ہونے لگی- اور اس کے ذریعہ سے اس نے آپ کے دل کو مضبوط کرنا شروع کیا اور کہا کہ جس طرح تو میرے نام کے لئے تکلیف اٹھا رہا ہے اور بدنام کیا جا رہا ہے اور لوگ تجھ سے دشمنی کر رہے ہیں اور اپنے عزیز تجھے چھوڑ رہے ہیں اور کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اس لئے کہ تو اسلام کی عظمت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے تیری عزت پر حملے کئے جاتے ہیں اور تیری عیب جوئی کے لئے ہر ایک ناواجب ذریعہ اختیار کیا جاتا ہے میں تیرے نام کو بلند کروں گا اور ایک بڑی جماعت اسلام پر فدا ہونے والوں کی تجھے دوں گا- اور میرے فرشتے میری طرف سے درود اور سلام لیکر تجھ پر نازل ہونگے اور ایک بڑی قوم تجھ سے پیدا ہوگی اور آدم کی طرح ایک نئی دنیا کا تو باپ بنے گا اور تیرے دشمن ذلیل اور خوار ہونگے- اور جن جن راہوں سے وہ تجھ پر حملہ کریں گے انہیں راہوں سے اور ان کے علاوہ اور ایسی راہوں سے بھی جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہونگی ان پر حملہ کروں گا اور ان کے منصوبے ان کے منہ پر ماروں گا- اور ایک یار وفادار کی طرح تیرے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو کر تیرے دشمنوں سے جنگ کروں گا اور جو تجھ پر وار کرے گا میں اس پر وار کروں گا لیکن وہ جو تیرا دوست اور ساتھی ہوگا میں اسے عزت دوں گا اور اس پر اپنا نور ڈالوں گا اور اپنی برکتوں سے اسے حصہوافر دوں گا- اور اپنے دین کا علم اسے عطا کروں گا- اور دین اسلام کا سپاہی اسے بناؤں گا اور ایسا ہوگا کہ تیرا نام دنیا میں سورج اور چاند کی طرح چمکے گا اور دن بدن تیرا اور تیری جماعت کا قدم ترقی کے زینہ پر بلند ہوتا چلا جائے گا- جوں جوں یہ الہامات آپ کی طرف سے شائع ہوتے تھے مخالف اپنی مخالفت میں اور بھی