انوارالعلوم (جلد 11) — Page 157
۱۵۷ طریق عمل کا ارشاد نہ کیا ہو۔یہ مختصر گُر اس کی تعلیم کے مکمل ہو نے کا ایک اہم ثبوت ہے۔عالم ِمعاد کے متعلق اسلام کی جامع تعلیم (۴) چوتھا امر جس کے متعلق ہدایت دینا مذہب کا اہم فرض ہے وہ معاد کے متعلق ہے یعنی وہ بتائے کہ مرنے کے بعد انسان کی کیا حالت ہو گی ؟اسلام اس بارہ میں مفصّل بحث کرتا ہے۔جسے اس موقع پر تفصیلاً تو بیان نہیں کیا جا سکتا۔لیکن دو آیتیں اس کی تائید میں پیش کرتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَّأَنَّکُمْ إِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ۵۹یعنی کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ تمہاری پیدائش عبث اور فضول ہے اور تم لوٹ کر ہمارے طرف نہیں آؤ گے۔یہ آیت زمین اور آسمان کی پیدائش اور احیاء اور اماتت اور اﷲ تعالیٰ کی مالکیت کے ذکر کے بعد آئی ہے اور اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ انسان میں ہم نے کتنی طاقتیں رکھی ہیں۔کس طرح زمین اور آسمانوں کو اس کے لئے مسخر کیا۔اس کے لئے چاند اورسورج پیدا کئے ان کے اثرات رکھے۔پھر انسان کے اندر قابلیتیں ودیعت کیں۔کیا یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا ہے کہ انسان دنیا میں کھائے پیئے اور مر کر ختم ہو جائے،یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔انسان کے لئے بہر حال ایک اور زندگی ہو نی چا ہئے جس میں وہ اپنے اعمال کا جوابدہ ہو اور جو ا سکی پیدائش کی غرض کو تکمیل تک پہنچانے والی ہو۔پھر سورۃ قیامہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔أَیَحْسَبُ الْاِ نْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ ۶۰ یعنی میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو نے کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔اس پر کہا جا سکتا ہے کہ جس چیز کی دلیل دینی تھی اس کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔مگر ذرا آگے پڑھیں تو بات واضح ہو جاتی ہے۔اور معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں قیامت سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے۔کیونکہ نبی کی بعثت بھی ایک قیامت ہو تی ہے۔چنانچہ اﷲ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتا ہے۔یَسْأَلُ أَیَّانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ۔وَخَسَفَ الْقَمَرُ۔وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔یَقُوْلُ الْإِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ أَیْنَ الْمَفَرُّ ۶۱ یعنی لوگ پوچھتے ہیں کہ قیامت کا دن کب ہو گا ان سے کہہ دو کہ یہ وہ زمانہ ہو گا جب نظر پتھر ا جائے گی یعنی نئے نئے علوم نکلیں گے۔اور انسان حیران رہ جائیں گے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَر ُاور چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔اس وقت انسان کہے گا کہ اب میں بھاگ کر کہاں جا سکتا ہوں۔یہاں قیامت سے مراد