انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 156

۱۵۶ کچلنے والے ہیں۔(۳)دوسری کتابیں بعض احکام تو بیان کرتی ہیں لیکن بے جوڑ۔یعنی وہ نہ تو یہ بتاتی ہیں کہ جو احکام وہ بیان کرتی ہیں انہیں کیوں بیان کرتی ہیں اور نہ یہ بتاتی ہیں کہ جن کو نہیں بیان کرتیں انہیں کیوں چھوڑتی ہیں۔دانستہ چھوڑا گیا ہے یا نادانستہ۔جیسے وید ہیں کہ بڑے بڑے اہم امور کے متعلق کچھ بیان نہیں۔حتیٰ کے قصاص اور عفو اور محرمات تک کے متعلق بھی کوئی حکم نہیں۔انجیل نے تو غضب کیا ہے کہ ایک طرف تو وہ شریعت کو لعنت قرار دیتی ہے اور دوسری طرف احکام بھی دیتی ہے۔حالانکہ اگر یہ درست ہے کہ شریعت لعنت ہے تو چاہئے تھا کہ انجیل میں کوئی بھی حکم نہ ہو تا۔مگر حکم ہیں۔جیسا کہ متی باب ۵ آیت ۳۲میں آتا ہے :۔’’ پھر میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرامکاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے۔وہ اس سے زنا کراتا ہے۔اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے۔‘‘۵۸؂ اگر شریعت لعنت ہے تو معلوم نہیں اس لعنت سے لوگوں کو کیوں حصہ دیا گیا ہے اور اگر کہو کہ شریعت لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے تو باقی ضروری باتیں کیوں چھوڑ دی گئیں۔وہ بھی بتا دی جاتیں۔غرض ان مذاہب نے ایک بے جوڑ سی بات کردی ہے۔کہیں کوئی بات چھوڑ دی اور یہ نہ بتایا کہ جن احکام پر خاموشی اختیار کی ہے ان پر خاموشی کیوں اختیار کی ہے۔اور کہیں بیان کر دی اور اس کی حکمت نہ بتائی۔مگر قرآن اصولی بات کہتا ہے۔جو حکم دیتا ہے اس کی حکمت بتاتا ہے اور جن احکام کو اس نے چھوڑا ہے ان کی وجہ بھی بیان کر دی ہے مگر دوسری کتابوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ویدوں میں بہن بھائی کی شادی کی کہیں ممانعت نہیں ہے۔لیکن ویدوں کے ماننے والے اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔قرآنی تعلیم کے مکمل ہو نے کا ایک واضح ثبوت میں ان روحانی ہدایت ناموں کی پرکھ کے متعلق ایک موٹا نسخہ بتاتا ہوں۔ہر ایک کتاب جو قرآن کریم کے سواہے اس میں جو مسائل بیان ہوئے ہیں ان کے علاوہ ضرور ایسے مسائل نکلیں گے کہ جن پر عمل کرنے کو اخلاقی برائی سمجھا جائے گا۔لیکن ان کی ممانعت اس کتاب میں نہیں ملے گی۔اس کے مقابلہ میں قرآن کریم میں ایک بھی امر ایسا نہیں جس پر عمل اخلاقی برائی سمجھا جائے اوراس سے اسلام نے نہ روکا ہو۔یا اس کے متعلق خاص