انوارالعلوم (جلد 11) — Page 155
۱۵۵ بعد بھی بعض ہدایتوں میں وقتی طور پر تغیر کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ان کو قرآن نے انسانی عقل پر چھوڑ دیا ہے اور فیصلہ کرنے کا یہ طریق بتا دیا ہے کہ اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ۵۵ یعنی مومنوں کا یہ طریق ہے کہ وہ قومی معاملات کو باہمی مشورہ سے طے کیا کرتے ہیں پس اسلام میں یہ نہیں کہ ہر فرد اپنی اپنی رائے پر چلے بلکہ مشورہ کرنے کے بعد جو بات طے ہو اس پر چلنا چا ہئے۔مگر باوجود ان باتوں کے چونکہ انسان پھر بھی غلطی کر سکتا تھا اس لئے اﷲ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لئے بعض غیبی سامان بھی مہیا کئے ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ ا س نے ملائکہ کو پیدا کیا ہے جن کا کام یہ ہے کہ انسان کو نیکی کے رستے پر چلاتے رہیں چنانچہ اﷲ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَہٗ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَیْنِ یَدَیْہٖ وَمِنْ خَلْفِہِ یَحْفَظُوْنَہ‘ مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ۵۶یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی ملائکہ کی ایک جماعت ہے جو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے اس کی حفاظت کر رہی ہے۔غرض اﷲ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لئے شریعت نازل کی اور اسے تفصیلی ہدایات دیں۔مگر پھر بھی انسان چونکہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اس کی حفاظت پر ملائکہ لگا دئیے گئے ملائکہ کے ایسے اعمال کے متعلق باقی کتب خاموش ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ باقی کتب نے ملائکہ کے متعلق تفصیلی بحث کی ہی نہیں۔بلکہ ایسے رنگ میں بحث کی ہے کہ ایک طبقہ ان کو خدا کی بیٹیاں کہنے لگ گیا۔دنیا اس امر پر ہنستی ہے مگر تجربہ کار لوگ جانتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے عظیم الشان احسانوں میں سے ایک احسان ملائکہ کا وجود ہے مگریہ موقع اس پر تفصیلی بحث کرنے کا نہیں ہے۔روحانی نتائج کا ظہار (۳)تیسرا اصل یہ بتایا کہ چونکہ انسان اگر ایک ہی رنگ میں کام کرتا چلاجائے اور ا سکے نتائج نہ دیکھے تو اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔اس لئے نتائج کے اظہار کا بھی کوئی طریق ہو نا چا ہئے۔سکولوں میں طلباء کا امتحان لینے کا یہی مطلب ہو تا ہے کہ نتائج دیکھ کر ان کی ہمت بڑھے اور وہ تعلیم میں ترقی کریں۔اسی رنگ میں اﷲ تعالیٰ نے روحانی نتائج کے اظہار کے لئے بھی ایک طریقہ بیان فرما دیا۔چنانچہ فرمایا اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ۵۷ تم مجھے ساتھ کے ساتھ بلاؤ میں تمہاری پکار سنوں گا۔غیر مذاہب کا بے اصولاپن اب یہ تینوں باتیں اسلام کے سوادوسرے مذاہب میں بھی ملیں گی تو سہی مگر بے اصولے طور پر۔مثلاً(۱) وہ مذاہب جو احکام دیتے ہیں ان کی حکمت نہیں بتاتے۔(۲) احکام تو دیتے ہیں مگر ایسے کے جو انسانی حُریّت کو