انوارالعلوم (جلد 11) — Page 139
۱۳۹ ہوگا۔بندوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی صفات الٰہیہ کا ثبوت میں اس وقت اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہیے ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَا إِلہَ إِلاَّ ھوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُ وھوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَکِیْلٌ۔لاَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَھوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَھوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۴۲ یعنی یہ ہے تمہارا اﷲ جو تمہارا رب بھی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہی ہر ایک چیز کا خالق ہے اسی کی تم عبادت کرو۔وہ ہر چیز پر نگران ہے۔اور یہ یاد رکھو کہ تمہاری یہ مادی آنکھیں اس تک نہیں پہنچ سکتیں نہ تمہاری عقلیں پہنچ سکتی ہیں۔یعنی تمہاری آنکھیں اور عقلیں اﷲ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ہاں اﷲ تعالیٰ خود ایسے سامان بہم پہنچا دیتا ہے کہ جن کے نتیجہ میں وہ بندہ کے پاس آجاتا ہے یعنی اپنی صفات کے ظہور کے ذریعہ۔کیونکہ وہ نہایت لطیف اور خبیر ہے۔غرض ان صفات کو اﷲ تعالیٰ کے وجود کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔اور لَا تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ کے ثبوت میں بتایا ہے کہ وہ لطیف اور خبیر ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو ان آنکھوں سے دکھا دو، وہ غلط کہتے ہیں۔اس لئے کہ جو لطیف چیز ہوتی ہے وہ نظر نہیں آیا کرتی۔لطیف کی تو تعریف ہی یہی ہے کہ نظر نہ آئے۔ورنہ جو چیز نظر آجائے وہ لطیف نہیں کہلا سکتی۔پھر خدا تعالیٰ ان آنکھوں سے کس طرح نظر آسکتا ہے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ خدا ہے یا نہیں۔سو اس کا ثبوت اس کی صفت خبیر سے مل جاتا ہے۔وہ بندہ کی نگہداشت کرتا ہے۔اس کی روحانی اور جسمانی ساری ضرورتیں پوری کرتا ہے۔کسی کے خبردار ہونے کا آخر کیا ثبوت ہوا کرتا ہے۔یہی کہ جس قسم کی ضروریات اسے پیش آئیں ان کا انتظام کرے۔مثلاً ایک شخص کسی کے ہاں مہمان جاتا ہے۔اس کے لئے اگر مکان اور مکان میں بستر وغیرہ موجود ہوتا ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بستر خود بخود آگیا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ میزبان بہت خبردار ہے جس نے پہلے سے ہی بستر کا انتظام کردیا۔اسی طرح مہمان کے آگے کھانا چنا جائے لیکن میزبان خود اس وقت نظر نہ آئے تو کیا یہ کہا جائے گا کہ کھانا خودبخود آگیا ہے۔اگر مہمان کی ضروریات پوری ہوتی جاتی ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان ضروریات کو پورا کرنے والا ایک وجود موجود ہے خواہ وہ نظر آئے یا نہ آئے۔پس جسمانی اور روحانی ضرورتیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے پوری ہوتی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا تعالیٰ ہے۔اور جب