انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 133

۱۳۳ ہے۔اور ذکر الٰہی ہی مذہب کی جان ہے۔لیکن دوسری کتب اس سے عاری ہیں اور ادھر ادھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتی ہیں بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں بندوں کے قصے کہانیاں زیادہ ہیں اور اﷲ کا ذکر کم ہے۔سخت کلامی سے مبرّا کتاب ساتویں خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ وہ سخت کلامی سے مبرّا ہے اور یہ بھی حسن کلام کی ایک قسم ہے۔کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اس میں گالیاں ہیں۔پھر نہ صرف قرآن سخت کلامی سے مبّرا ہے بلکہ نہایت لطیف اور دلنشیں پیرایہ میں یہ نصیحت کرتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِن دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًابِغَیْرِ عِلْمٍ ۳۵؂ یعنی تم ان معبودان باطلہ کو گالیاں مت دو جن کی وہ اﷲ تعالیٰ کے سوا پرستش کرتے ہیں۔اور اگر تم ان کو گالیاں دو گے تو وہ اﷲ کو گالیاں دیں گے بغیر یہ سمجھنے کے کہ اﷲ تو سب کا ہے۔پھر فرماتا ہے کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھمْ۶ ۳؂ اسی طرح ہم نے ہر ایک قوم کے لئے اس کے عمل خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔یعنی یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ ان لوگوں کے معبود جھوٹے ہیں اس لئے انہیں برا بھلا کہنے میں کیا حرج ہے۔یہ لوگ اب شرک کے عادی ہوچکے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے اس برے کام کو بھی اچھا سمجھنے لگ گئے ہیں اس لئے اگر تم انہیں گالیاں دو گے تو فتنہ پیدا ہوگا اور یہ لوگ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔کیا ہی لطیف نکتہ قیام امن کے متعلق بیان کیا کہ کسی کے بزرگوں اور قابل تعظیم چیزوں کو برا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ اس سے آپس کے بہت سے جھگڑے اور فساد رک سکتے اور بہت اچھے تعلقات پیدا ہوسکتے ہیں۔فُحش کلامی اور ہر قسم کی بداخلاقی سے منزّہ کتاب آٹھویں ظاہری خوبی قرآن کریم میں یہ ہے کہ وہ فحش کلامی اور ہر قسم کی بد اخلاقی کی تعلیم سے منزہ ہے۔یعنی اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے پڑھ کر طبیعت منغّض ہوجائے یا شرمائے یا بد اخلاقی معلوم ہو۔قرآن کریم ایک شریعت کی کتاب ہے اور بوجہ شریعت ہونے کے اسے ایسے مضامین پر بھی بحث کرنی پڑتی ہے جو نہایت نازک ہوتے ہیں مگر وہ اس طرح ان کو بیان کر جاتا ہے کہ جن کو پڑھ کر جو واقف ہے وہ تو سمجھ جائے اور جس کی عمر ابھی سمجھنے کی نہیں اسے خاموش گذار دیا جائے۔مثلاً اس میں مرد اور عورت کے تعلقات کا