انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 132

۱۳۲ مسلمانوں پر رعب چھا جانا تھا اور ایسے علوم نکل آنے تھے جن کی وجہ سے اسلام پر حملہ کیا جاتا اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس وقت بھی اپنی صفات عزیز اور حکیم کا اظہار کریں گے اور مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلہ میں غلبہ دیں گے۔اور ان علوم کا بھی رد کریں گے جو قرآن کے مقابلہ پر آئیں گے۔کیونکہ اصل غلبہ اﷲ تعالیٰ کو ہے اور علوم اس کے بھیجے ہوئے ہیں۔پس وہ باوجود ان فتن کے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ و سلم کی تعلیم کو دوبارہ دنیا میں قائم کردے گا۔غرض ان الفاظ کا تکرار صرف مقفّٰی عبارت کے لئے نہیں بلکہ عین اس ترتیب کے ماتحت ہے جس کی یہاں ضرورت تھی۔قرآن آیات کا لطیف توازن (۵) پھر قرآن کریم کی ایک ظاہری خوبی اس کے الفاظ کا لطیف توازن ہے کہ بظاہر نثر ہے مگر نظم کے مشابہ ہے اور یہ امر اس کی عبارت کو ایسا خوبصورت بنا دیتا ہے کہ کوئی اور کتاب اب تک اس کی نقل نہیں کرسکی خواہ وہ ناقص نقل ہی کیوں نہ ہو۔یہ بھی قرآن کریم کی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔چونکہ قرآن کریم حفظ کیا جانا تھا اس لئے ضروری تھا کہ یا تو اشعار میں ہوتا یا اشعار سے ملتا جلتا ہوتا۔قرآن کریم کو خدا تعالیٰ نے ایسے انداز میں رکھا کہ جس قدر جلدی یہ حفظ ہوسکتا ہے اور کوئی کتاب نہیں ہوسکتی۔اس کی وجہ توازن الفاظ ہی ہے اور پڑھتے وقت ایک قسم کی ربودگی انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔قرآن کریم میں ذکر الٰہی کی کثرت (۶ ) چھٹی خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر کی اس میں اتنی کثرت ہے کہ جب انسان قرآن کھولتا ہے تواسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے کا سارا قرآن ہی خدا تعالیٰ کے ذکر سے پر ہے۔چنانچہ مکہ کے کئی مخالف جو سخت دشمن ہوا کرتے تھے جب کبھی رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ جاتے تو کہتے وہاں تو اﷲ تعالیٰ کا ہی ذکر ہوتا رہتا ہے۔غرض قرآن کریم نے اس طرح عظمتِ الٰہی کو بار بار بیان کیا ہے کہ انسان اس امر کو محسوس کئے بغیر نہیں رہتا۔اور ہر خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والا دل اس کثرت سے ذکر الٰہی کو دیکھ کر باغ باغ ہوجاتا ہے۔ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے۔محمد کے متعلق خواہ کچھ کہو لیکن اس کے کلام میں خدا ہی خدا کا ذکر ہے۔وہ جو بات پیش کرتا ہے اس میں خدا کا ذکر ضرور لاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کا عاشق ہے۔یہ مخالفین کی قرآن کریم کے متعلق گواہی ہے کہ وہ ذکر الٰہی سے بھرا ہوا