انوارالعلوم (جلد 11) — Page 129
۱۲۹ ساری دنیا کے لئے ہے، جا اور اسے سنا۔اس میں تبلیغ اسلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔تیسری بات رَبُّکَ الَّذِیْ خَلَقَ میں یہ بتائی کہ اس کلام کے پیش کرنے میں تمہیں بہت سی مشکلات پیش آئیں گی مگر تو اس رب کا نام لے کر پڑھ جس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اس میں یہ اشارہ کیا کہ یہ کلام صرف بنی اسرائیل کے لیے یا اہل ہنود کے لئے نہیں یہ اَلْاِنْسَانَ کے لئے ہے اور جب ایک قوم کو مخاطب کرنے والوں کو دکھ اورتکالیف اٹھانی پڑیں تو تم جو ساری دنیا کو مخاطب کررہے ہو تمہیں کس قدر مشکلات پیش آئیں گی۔مگر کسی بات سے ڈرنا نہیں یہ کلام تیرے رب کی طرف سے آیا ہے اور باوجود اس کے کہ ساری دنیا اس کی مخاطب ہے اور اس وجہ سے ساری دنیاتیری مخالف ہوگی تیرا رب تیرے ساتھ ہوگا۔مگر یہ بھی یاد رکھنا کہ تیری آہستہ آہستہ ترقی ہوگی کیونکہ رب آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ ترقی دینے والے کوکہتے ہیں۔چوتھی بات یہ بیان کی کہ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اس میں ایک تو اس طرف توجہ دلائی کہ اے انسان! دیکھ تیری پیدائش کتنی ادنیٰ ہے پھر توخیال بھی کس طرح کرسکتاہے کہ اپنی کامیابی کے ذرائع خود معلوم کرلے گا۔دوسرے رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرف توجہ دلا دی کہ انسان کو عَلَقٍ سے پیدا کیا گیا ہے یعنی اس میں قدرتی طور پر تعلق باﷲ کا مادہ رکھا گیا ہے۔اور یہ بات تمہاری معاون ہوگی۔پس تمہیں گھبرانا نہیں چاہیے اور مایوسی کو کبھی اپنے قریب بھی نہیں آنے دینا چاہیے۔غرض ایک چھوٹی سی آیت میں تاریخ، علم کلام، تبلیغ، انسان کی پیدائش اور انسان کی مخفی طاقتوں کا ذکر کردیا۔اور ابھی یہ باتیں ختم نہیں ہوئیں اور بھی کئی علوم کا اس میں ذکر ہے۔قرآن کریم کی مقفّٰی عبارت چہارم قرآن کریم کی عبارت مقفّٰی ہوتی ہے۔قافیہ بندی کے ساتھ اگر مضمون خراب ہوجائے تو وہ مقفّٰی عبارت بری معلوم ہوتی ہے۔لیکن قرآن کریم کی عبارت باوجود مقفّٰی ہونے کے ایسی ہے جس سے صرف مضمون کی عظمت ہی قائم نہیں ہوتی بلکہ نئے نئے معارف بھی ظاہر ہوتے ہیں۔اس کی مثال کے طور پر سورۃ جمعہ کو لے لیتا ہوں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔یُسِبِّحُ لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖیْنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ