انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 126

انوار العلوم جلدا ۱۲۶ فضائل القرآن (۲) قرآن کریم کی دوسری ظاہری خوبی اس کی اعلیٰ درجہ کی قرآن کی اعلیٰ درجہ کی ترتیب درجہ کی ترتیب ترتیب ہے۔ ترتیب کا اعلیٰ ہونا بذات خود روحانیت سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ مجرد ترتیب انسانی کلام میں بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ترتیب ایک ظاہری خوبی ہے جو کسی کلام کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اور اس خوبی کے لحاظ سے بھی قرآن کریم تمام دوسری کتب سے افضل ہے۔ بظاہر وہ ایک بے ترتیب کلام نظر آتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب موجود ہے بلکہ جہاں سب سے بڑھ کر بے ترتیبی نظر آتی ہے وہاں سب سے زیادہ ترتیب ہوتی ہے۔ اور یہی اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا جو بظاہر تو بے ترتیب ہو مگر غور کرنے سے اس میں اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہو۔ پس اس حُسن میں بھی قرآن کریم نہ صرف دوسری کتب کے مشابہ ہے بلکہ ان سے افضل ہے۔ اس وجہ سے کہ معروف ترتیب کی اتباع کرنا ایک عام بات ہے۔ ہر عقلمند ایسا کر سکتا ہے لیکن قرآن کریم کی ترتیب میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو دوسری کتب میں نہیں اور وہ خصوصیات یہ ہیں۔ اول۔ اس کی ترتیب بظاہر مخفی ہے مگر غور اور تامل ترتیب قرآن کی چند خصوصیات سے ایک نہایت لطیف ترتیب معلوم ہوتی ہے اور کسی انسانی کتاب میں اس قسم کی ترتیب کی مثال نہیں ملتی کہ بظاہر ترتیب نہ ہو لیکن غور کرنے پر ایک مسلسل ترتیب نظر آئے جو نہایت لطیف اور فلسفیانہ ہو۔ اس وقت میں قرآن کریم کی ترتیب کے متعلق مثالیں دینے سے معذور ہوں۔ کیونکہ جس مقام کی بھی میں ترتیب بیان کروں گا کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقام خاص طور پر چن لیا گیا ہے۔ میں نے بعض دوستوں سے کہا تھا کہ وہ کوئی مثال ایسی چن دیں جس کی ترتیب عام لوگوں کو معلوم نہ ہو اور جو بے جوڑ فقرے نظر آتے ہوں مگر افسوس ہے کہ ان کا مطالعہ وسیع نہ تھا اس لئے وہ کوئی مثال پیش نہ کر سکے اور میں خود سر درد کی وجہ سے ایسا مقام نہ نکال سکاور نہ بتا تاکہ قرآن کریم میں کیسی اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہے۔ دوم - قرآن کریم بغیر اس کے کہ ترتیب کی طرف اشارہ کرے علم النفس کے ماتحت اپنے مطالب کو بیان کرتا ہے اور جو سوال یا جو ضرورت کسی موقع پر پیش آتی ہے اس کا اگلی عبارتوں میں جواب دیتا ہے۔ گویا اس کی ہر اگلی آیت میں پچھلی آیات کے مطابق جو سوال پیدا