انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 103

۱۰۳ مجھے قرآن کریم ہی افضل نظر آیا۔دوسری کتب سے مستغنی کرنے کے لحاظ سے افضلیت چوبیسویں۔اس لحاظ سے بھی کسی چیز کو دوسری چیزوں سے افضل قرار دیا جاتا ہے کہ وہ کس حد تک دوسری اشیاء کی ضرورت سے مستغنی کر دیتی ہے۔ایسی چیز کی لوگ زیادہ قدر کرتے ہیں کیونکہ انہیں دوسری چیزوں کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔صحیح علوم کی طرف راہنمائی کرنے کے لحاظ سے فضیلت پچیسویں۔کسی چیز کی افضلیت کا ایک یہ بھی باعث ہوتا ہے کہ وہ صحیح علوم کی طرف لوگوں کی راہنمائی کرتی اور انہیں لغو امور میں حصہ لینے سے بچاتی ہے۔کتاب الٰہی چونکہ معلم ہوتی ہے اس لئے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی توجہ صحیح طرف لگائے۔انہیں لغویات سے روکے اور صحیح علوم کی طرف ان کی راہنمائی کرے۔میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لحاظ سے فضیلت چھبیسویں۔اس امر کے لحاظ سے بھی ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت حاصل ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک اس ضرورت کو پورا کرتی ہے جس کے لئے اسے حاصل کیا گیا تھا۔اگر ایک چیز اپنی ضرورت کو پورا نہیں کرتی تو لازماً اس دوسری چیز کو ترجیح دی جائے گی جو اس ضرورت کو پورا کر سکتی ہو۔میں نے دیکھا کہ اس پہلو کے لحاظ سے بھی قرآن کریم کو دوسری کتب پر فضیلت حاصل ہے۔غرض غور کرتے وقت مجھے فضیلت کی یہ چھبیس وجوہات نظر آئیں۔گو جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں ممکن ہے کہ اور بھی کئی باتیں غور کرنے سے نکل آئیں۔بہر حال جب میں نے ان پر قرآن کریم کو پرکھا تو اسے ہر بات میں دوسری کتب سے افضل پایا قرآن کریم کا دعویٰ اور افضیلت مگر پیشتر اس کے کہ ان امور پر تفصیلی بحث کی جائے سب سے پہلا سوال جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا قرآن کریم نے خود بھی دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا ہے یا نہیں کہ وہ تمام کتب الٰہیہ سے افضل ہے۔اگر قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہو تو پھر تواس کی افضلیت اور برتری کے وجوہ پر بھی